part 8
رات کے تین پونے تین بجے کا وقت تھا۔۔۔۔
"زوں۔۔۔۔زوں۔۔۔زوں۔۔" پچھلے چار پانچ منٹ سے زارا کے موبائل پر لگاتار پیغامات(میسج) آ رہے تھے۔۔۔۔مگر زارا اِس قدر گہری نیند میں تھی کہ اُسے علم ہی نہ ہوا کہ کوئی طوفان دستک دے رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ خوابوں کی رنگین دنیا میں مصروف تھی۔کہ اچانک کسی احساس کے تحت اُٹھی۔۔۔ موبائل پکڑ کر سامنے لائی اور اپنی ادھ کھلی تھکی ہوئی آنکھوں سے موبائل کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
"سمیر!!!!۔۔۔۔75 میسجز۔۔۔رات کے اس وقت"وہ جو ابھی تک نیند میں تھی اچانک حیران پریشان ہو گئ۔۔۔۔۔۔وہ ابھی پیغامات پڑھنے ہی رہی تھی کہ سمیر کی کال آگئی ۔۔۔۔
"ہیلو سمیر۔۔۔ہاں جی۔۔اسلام علیکم۔۔۔۔" اسکی آواز میں تھکاوٹ اور عاجزی نمایاں تھی۔۔۔۔
"تم نے ڈانس کیا تھا؟؟؟؟" اپنے شدید غصے کو دباتے ہوئے سمیر بولا۔۔۔۔۔یہ وہی لہجا تھا جو زارا کی محبت میں گرفتار ہونے سے پہلے اُسکی شخصیت کا حصہ تھا۔۔۔جو اُس وقت تو زارا پر کو خاص اثر نہیں کرتا تھا مگر اب وہ اُسے لہجے کی عادت نہیں تھی۔۔۔۔
"جی؟؟؟" زارا نے بے یقینی سے پوچھا۔۔۔۔
"تم نے ڈانس کیا تھا زارا؟؟۔۔۔اُس۔۔۔۔۔چند لمحے کا وقفہ لیا اگلے الفاظ زبان پر لانے کے لیے ہمت اور تھوڑی برداشت کی ضرورت تھی۔۔۔۔۔اپنے اُس کزن کے ساتھ۔۔۔۔۔"جو طوفان پہلے صرف دستک دے رہا تھا اسکا اب آغاز ہو چکا تھا۔۔۔۔۔
"کیا مطلب؟؟؟۔۔۔۔سب نے کیا تھا۔۔۔۔۔آپ کیا کہہ رہے ہیں سمیر۔۔۔۔" وہ ابھی تک بے یقینی کے عالم میں ڈوبی ہوئی تھی۔۔۔۔
"زارا تم نے اپنے اُس so called کزن علی کے ساتھ ڈانس کیا تھا۔۔اس نے تمہارا ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔۔کیوں!!!!!۔۔۔۔تم پاگل ہو یا جان بوجھ کے کرتی ہو یہ سب!؟؟" سمیر کا غصہ اب عروج پر تھا۔۔۔۔یہ سب الفاظ کہنا اس کے لیے بہت مشکل ہو درد بھرا تھا۔۔۔طوفان بھی اب مذید بڑھتا جا رہا تھی۔۔۔۔۔دوسری طرف زارا حیرانگی کے عالم سے باہر آچکی تھی اور صدمے میں مبتلا تھی۔۔۔۔۔
"سمیر؟؟۔۔۔آپ۔۔۔آپ کیسے بات کر رہے ہیں مجھ سے؟؟۔۔" زارا کہ آنکھوں میں آنسو ٹہرے ہوئے تھے۔۔۔وہ مزیر ایک اور صدمے کے انتظار میں تھے۔۔۔۔۔سمیر خاموش رہا۔۔۔۔مگر زارا اسکی خاموشی کے پیچھے چھپے غصے کو محسوس کر سکتی تھی۔۔۔۔۔تھوڑے وقفے کے بعد وہ بولی۔۔۔۔
"وہ میرا کزن ہے اِس میں کیا برائی ہے کہ میں اسکے ساتھ ڈانس کروں۔۔۔اُس نے کونسا کھا جانا تھا مجھے۔۔۔۔۔" زارا کی دلیلیں سمیر پر کوئی اثر نہیں کر رہی تھیں۔۔۔سمیر کے غصے میں اب مذید اضافہ ہو چکا تھا۔۔۔۔۔غصے سے بھری لال آنکھیں اور بند مٹھی کی مظبوط گرفت اِس بات کی نشانی تھی کہ طوفان اب اپنی عروج کو چھونے والا ہے۔۔۔۔۔
"اِس میں کوئی خرابی نہیں ہے ؟؟۔۔۔زارا !!!!!" زارا کا دل زور زور سے دھرکنے لگا۔۔۔۔اب اُسے احساس ہونے لگا کہ معاملہ اسکی سوچ سے زیادہ سنگین ہے۔۔۔۔
"سب۔۔۔سب کرتے ہیں تو۔۔۔۔۔"
"او شیٹ آپ لڑکی۔۔۔۔بند کرو اپنی جھوٹی سچی دلیلں۔" زارا کی آنکھوں ٹہرے آنسوؤں کا انتظار ختم ہوا۔۔۔۔وہ کسی تیز بہتے گہرے سمندر کی طرح ٹپکنے لگے۔۔۔۔طوفان کی ہوائیں بھی مظبوط اور تیز ہو گئیں۔۔۔مگر وہ ہوائیں زارا کے لیے کسی گرم لوُ کی طرح تھیں۔۔۔۔جو اُسے جسم کے ایک ایک عضو کو جلا رہی تھی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔سب کرتے ہیں۔۔۔۔ کریں۔۔۔مریں۔۔۔۔۔جو مرضی کریں۔۔۔damn!! I don't care ....۔۔۔مگر میری زارا۔۔۔میری زارا کسی کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر "اگلے الفاظ وہ زبان پر نہیں لانا چاہتا تھا
"۔زارا یہ میری برداشت سے باہر ہے سمجھی۔۔۔۔۔۔" وہ چن چن کر بول رہا تھا۔۔۔ زارا کچھ سننے سمجھنے کی حالت میں نہیں تھی۔۔۔۔وہ بس صدمے میں تھی
"او شیٹ آپ لڑکی۔۔۔۔بند کرو اپنی یہ ۔۔۔۔" سمیر کے الفاظ اسکے کانوں میں گونج رہے تھے۔۔۔۔۔یہ سب اس کے لیے کسی بڑے صدمے سے کم نہ تھا۔۔لاڈ پیار کی عادی لڑکیاں لہجوں کی سختیاں برداشت نہیں کر سکتیں۔۔۔۔۔۔۔وہ سمیر۔۔ جو اُسے اف تک نہیں کہتا۔۔۔۔اُس پر جان نچھاور کرتا ہے۔۔۔۔وہ آج اچانک سے اس پر غصہ کر رہا تھا۔۔۔
زارا نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تاکہ اسکا رونا اندر ہی دب جائے اور باہر آواز نہ جاۓ۔۔۔مگر سمیر اسکے رونے کی آواز سن سکتا تھا۔۔۔۔اسے غصہ ابھی بھی تھا مگر اپنے پیار کو اِس طرح روتا دیکھ وہ کمزور پر چکا تھا۔۔۔۔لمحے بھر کو وہ سب بھول گیا۔۔۔اس کے من میں آیا کہ وہ بھاگ کر جاے اور زارا کو اپنے سینے سے لگا لے۔۔۔۔اسکے بالوں کو سہلائے اور اس کی پیشانی کو اپنے ہونٹوں سے چھو لے۔۔۔۔مگر۔۔۔۔اس نے اپنے جذبات کو قابو میں رکھا۔۔۔۔اسے ابھی زارا کو مزید سمجھانا تھا تاکہ وہ اگلی بار یہ کرنے سے پہلے دس بار سوچے۔۔۔۔اُس نے پھر بولنا شروع کیا۔۔۔مگر اس بار لہجا تھوڑا نرم تھا۔۔۔۔۔اور طوفان بھی اب ڈھل چکا تھا۔۔۔۔۔
"زارا میں تمہیں کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا؟؟؟؟ کیا تم یہ برداشت کرسکتی ہو کہ میں کسی اور لڑکی کے قریب جاؤں؟؟"۔۔۔۔
زارا نے لمحے بھر کو سوچا مگر وہ لمحے بھر کے لیے بھی سمیر کو کسی اور کے ساتھ تصور کرنا زارا کے لیے تختہ دار پر لٹکنے کے مترادف تھا۔۔۔۔
بتاؤ اگر کر سکتی ہو برداشت تو میں پرسنل سیکرٹری رکھ لیتا ہوں تو ہر وقت میرے ساتھ رہے گی۔۔۔۔۔بلکہ ایسا کرتا ہوں کہ کسی لڑکی کو پاکستان ساتھ ہی لے۔۔۔۔" سمیر کی طات ابھی جاری تھی کہ زارا نے ٹوک دیا۔۔۔۔۔
"بس کر دیں۔۔۔۔آپ۔۔۔ ایسا کچھ نہیں کریں گیں۔۔۔"زارا بمشکل روتے روتے بولی ۔۔۔
"تم تو صرف اتنا نہیں برداشت کر سکتی میں کسی اور لڑکی کا نام بھی لوں اور خود دیکھو۔۔۔۔"
"اچھا اچھا ٹھیک ہے۔۔۔سوری۔۔۔مجھ سے غلطی ہو گئی......next ایسا نہیں کروں گی۔۔۔۔سوری۔۔سوری سوری۔۔۔اب خوش؟؟" زارا کی آنکھوں میں درد تھا اور بولتے ہوئے اسکی آواز کامپ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
۔"Next ایسا ہونا بھی نہیں چاہیے۔۔۔۔ورنہ۔۔۔ورنہ میں اپنی جان لے لوں گا!!!" سمیر کا لہجا ابھی بھی سنجیدہ تھا۔۔۔مگر اب اسکا غصہ ختم ہو چکا تھا۔۔۔۔کیونکہ جس سے انسان عشق کرتا ہو اس پر کتنا ہی کیوں نہ غصہ ہو مگر اُس سے ذیادہ دیر ناراض نہیں رہا جا سکتا۔۔۔۔۔
"اللہ حافظ!!" زارا اب رو رو کر تھک چکی تھی۔۔۔۔
"میری طرف سے بھی سوری۔۔۔۔میں کچھ زیادہ ہی بول گیا۔۔۔" سمیر اب بلکل ٹھنڈا پڑ چکا تھا۔۔۔
"ہاں جی۔۔۔۔بے شک میری غلطی تھی مگر اپ پیار سے بھی تو سمجھا سکتے تھے۔۔۔اور "شیٹ آپ؟!!" گویا اُسے سارا دکھ شیٹ آپ کہے جانے کا ہو۔۔۔۔
"اچھا نا۔۔۔سوری۔۔۔" سمیر اب بس بات ختم کرنا چاہتا تھا۔۔۔کیونکہ آج اسکی فلائٹ تھی اور کال اُس نے پاکستان میں ہونا تھا۔۔۔وہ اپنی اور زارا کی دوسری ملاقات خوشگوار بنانا چاہتا تھا نہ کہ ناراضگی اور شکوں میں ڈوبی بے رنگ سی۔۔۔۔
"سوری نہیں۔۔۔آپکو اب punishment ملے گی۔۔۔جب آپ یہاں آئیں گیں۔۔۔۔تب تک لے لیے الله حافظ۔۔۔۔I hate you!!" زارا کی بات پر سمیر مسکرایا۔۔۔۔اور ایک گہری سانس لی۔۔۔۔۔
۔"I love you too!" سمیر نے زارا کے indirectly کہے جانے والے I love you کا directly جواب دیا۔۔۔۔اور فون بند ہو گیا۔۔۔۔
زارا بھی اب فون ایک طرف رکھ کر لیٹ گئ۔۔۔آنکھیں بند کیں اور منہ پر آتی بکھرے بکھرے ہوئے بالوں کی لٹ کو ہٹایا جو اب آنسوؤں کی وجہ سی گیلی ہو چکی تھی۔۔۔۔۔
Heyyyy viewers hope you like this chapter......
Qs:-
Chapter ka best part konsa tha comment please!!!!....
Apky comments or compliments parh k mujhy bht bht khushi hoti ha....so
Bạn đang đọc truyện trên: AzTruyen.Top