part 9

صدیقی صاحب کے گھر میں آج کی صبح کافی سرد اور خوشگوار تھی۔۔۔۔۔بادل گہرے سیاہ تھے اور ہوائیں اتنی ٹھنڈی گویا دسمبر کا مہینہ ہو۔۔۔۔۔زارا کی آنکھ صبح 9 بجے کے قریب کھلی۔۔۔۔رات کافی تھکی ہوئی تھی تو فجر کی نماز پڑھ کر وہ دوبارہ سو گئ تھی۔۔۔۔۔

کچھ پندرہ منٹ میں وہ فریش ہو کر کمرے سے باہر آگئی۔۔۔۔لاؤنج میں کافی چہل پہل تھی۔۔۔۔سب لوگ بیٹھے باتیں کر رہے تھے اور ان سب لوگوں میں صرف بڑے لوگ شامل تھے یعنی گھر کے بڑے۔۔"آؤ بیٹا چاۓ پی لو۔۔۔۔"صدیقی صاحب کے اتنے پیار سے کہنے پر زارا نے چاۓ کا کپ اٹھالیا۔۔۔وہ نہ بھی کہتے تو بھی زارا نے کپ اٹھا ہی لینا تھا۔۔۔۔۔وہ کچھ وقت اکیلے گزارنا چاہتی تھی سو وہ کپ لیے ٹیرس پر چلی گئی۔۔۔۔

ٹیرس پر چلنے والی ہوا نیچے چلنے والی ہوا سے زیادہ تیز سرد تھی۔۔۔۔۔سیاہ بادل ابھی خاموش تھے اور ہواؤں کو شور زارا کو کسی سریلی دھن کی طرح متاثر کر رہا تھا۔۔۔۔گلابی پڑتی بند آنکھیں سے وہ ٹھنڈی ہوا کو محسوس کر رہی لگی۔۔۔۔۔تیز ہوا کا جھونکا جب اسکے کُھلے بالوں کو پیچھے کی طرف اُڑاتا تو اسکا چہرہ مزید روشن اور کِھلا کِھلا سا لگتا۔۔۔۔۔

اِن ٹھنڈی ہواؤں کی قید سے وہ تب باہر نکلی جب   چاۓ کے کپ کی گرماہٹ انگلیوں کو ذیادہ محسوس ہونے لگی۔۔۔۔اس نے آنکھیں کھولیں اور کپ کو پیار بھری نظروں سے دیکھا۔۔۔۔جب آنکھیں مجنوں ہوں تو ہر چاۓ لیلَی لگتی ہے۔۔۔۔۔چند لمحے چاۓ کا دیدار کرنے کے بعد اُس نے کپ اپنے لبوں کو لگایا۔۔۔۔ سکون اطمینان اور جوش جیسے مشترکہ احساسات زارا محسوس ہوۓ۔۔۔۔جب سے وہ اٹھی تھی اسکے  دماغ میں کل رات ہونے والی باتیں چل رہیں تھیں۔۔۔۔مگر اب وہ پریشان نہیں تھی۔۔۔بلکہ خوش تھی کیونکہ آج شام تک سمیر نے یہاں پہنچ جانا تھا۔۔۔۔۔چار سال بعد اس نے آج دوبارہ سمیر کو اپنی نظروں کے سامنے دیکھنا تھا یہ بات سوچ لینے سے ہی اسکے اندر جوشی کی لہر دھوڑتی۔۔۔۔

ایک بات پھر اس نے چاۓ کے کپ سے گھونٹ بھرا اور پھر آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔۔

سنہری صبح۔۔ڈھلتے ساۓ
   ٹھنڈا اکتوبر اور گرم چاۓ۔۔۔۔

ابھی وہ چاۓ پینے میں غالباً مصروف ہی تھی کہ ثناء کا چھوٹا 15 سال  کا بھائی حمزہ ٹیرس پر آگیا۔۔۔۔۔

"زارا آپی۔۔۔آپ یہاں ہیں۔۔۔میں آپکو سارے گھر میں ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔۔" حمزہ نے ہچکچاتے ہوئے  بات کا آغاز کیا۔۔۔۔وہ زارا کے غصے سے بہت ڈرتا تھا۔۔۔۔

"گھر والے تمہارا رشتہ دیکھنے چلے گۓ تھے؟؟ ان سے پوچھ لیتے میں کہاں ہوں۔۔۔" سامنے دیکھتے ہوے زارا نے سرد لہجے میں جواب دیا۔۔۔۔

"ہی ہی ہی۔۔۔وہ ۔۔۔"

"کیا ہی ہی ہی۔۔۔" زارا اب کی بار اس کی طرف مڑی اور دونوں ہاتھ سینے پر باندھ لیے۔۔۔۔۔

"آپی کل رات میں کچن میں پانی پینے گیا تو اپکے کمرے سے رونے کی آواز آرہی تھیں۔۔۔۔خیریت تھی۔۔۔" حمزہ کی اس بات پر زارا چونک سی گئ اور فوراً دوسری طرف منہ کر لیا۔۔۔۔۔اور تھوڑی سمبھل کر بولی۔۔۔۔۔

"میرے میں باہر کی چیزیوں کی آمد ہو گئی تھی۔۔۔"زارا نے بات کو مذاق میں ٹالنے کی کوشش کی۔۔۔۔

"امممم۔۔۔۔۔مطلب؟؟۔۔۔آپ۔۔" وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔۔۔۔

"مطلب وطلب چھوڑو تم۔۔۔۔۔اگر کسی کو بتایا نہ کہ میں رو رہی تھی تو۔۔۔۔تو میں نے تمہارے گردے نکال دینے ہیں۔۔۔۔"زارا نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا۔۔۔۔

"تو مطلب چڑیلوں والی بات بتا سکتا ہوں؟؟" حمزہ نے معصومیت سے پوچھا۔۔۔۔جس پر زارا اسے غصے سے گھورنے لگی۔۔۔۔۔

"آپی جی مجھے آپکی فکر ہو رہی ہے۔۔۔۔"

"کام بتاؤ جس کے لیے آۓ ہو میرے پاس۔۔۔آیا بڑا فکر ہو رہی ہے۔۔۔۔" زارا نے منہ چڑھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

"ہی ہی ہی۔۔۔وہ ایکس باکس X BOX  چاہیے تھی۔۔۔میں نے سوچا آپکے پاس ہو گا۔۔۔"(ایکس باکس ایک گیم ہے جو  TV یا کسی LCD کے ساتھ connect کر کے کھلی جاتی ہے۔۔)

"بس ایک یہی نہوست رہ گئی ہے نہ دنیا میں جیسے میں کھلیوں۔۔۔بھائی کے پاس ہو گی ان سے لو جا کر۔۔۔۔" اور وہ چپ چاپ تابیدری سے سر کو خم دیتا چلا گیا۔۔۔۔۔


***********

صبح کے گیارہ بج چکے تھے اور موسم ابھی بھی اتنا ہی سرد تھا جتنا پہلے۔۔۔۔اکتوبر کے آخر پر اس طرح کا موسم ہونا سردیوں کی  پہلی بارش کی نشانی ہوتی ہے۔۔۔۔اور شاید کہ اب پہلی بارش کا وقت آگیا ہے۔۔۔۔باہر بادل گہرے سیاہ اور ہوائیں اتنی تیز اور ٹھنڈی کہ کسی دبلی پتلے انسان کا باہر جانا خطرے سے خالی نہ ہو گا۔۔۔۔۔۔شام تک مہمانوں نے گھر پہنچ جانا تھا۔۔۔۔۔زارا اپنے کمرے میں الماری کے سامنے کھڑی تھی اور کسی ایسے لباس کی تلاش میں تھی جس میں وہ اتنی خوبصورت لگے کہ جب شام میں سمیر اُسے دیکھے تو وہ دوبارہ اُس دیوانی کی  محبت میں دیوانا ہو جاۓ۔۔۔۔۔۔۔

"کیا میں اندر آ سکتی ہوں؟؟؟۔۔" دروازہ کھولتے ہوئے رابیہ نے زارا نے اجازت مانگی۔۔۔۔ اجازت دینے سے پہلے زارا نے ایک نظر رابیہ کے پیروں پر ڈالی جو کمرے سے باہر تھے۔۔۔۔۔"آۓ ہاۓ منحوس مارے تھوڑے سے کمرے کے اندر ہوتے نہ۔۔۔۔۔تو بس شوگل لگ جانا تھا۔۔۔۔"زارا نے خیالات میں افسوس کا مظاہرہ کیا۔۔۔۔۔

"ہاں آجاؤ۔۔۔۔۔"۔۔۔۔رابیہ جو پہلے جواب کی منتظر تھی فوراً کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔۔

"تمہارے بابا بلا رہے ہیں باہر۔۔۔۔۔"رابیہ نے نرمی سے کہا۔۔۔۔

"اتنے پیار سے بات نہ کیا کرو۔۔۔۔بھری جوانی میں ہارٹ اٹیک کرواؤ گی کیا؟؟" رابیہ کا لہجہ مشقوق لگنے پر زارا نے تنز کیا جس پر رابیہ کچھ نہ بولی۔۔۔اپنا وقت ضائع کیے بغیر وہ دونوں باہر چلے گئیں۔۔۔۔۔

"بابا میں کہیں نئ جانے والی۔۔۔۔یہ ثناء کو لے جاۓ ساتھ۔۔۔میں۔۔۔میں کیوں!!" صدیقی نے جب زارا کو رابیہ کے ساتھ مال جانے کو کہا تو وہ تلملا اُٹھی۔۔۔۔۔

"بیٹا ثناء کو کیا پتا یہاں کے مالز اور مارکیٹ کا۔۔۔"

"کیوں نہیں پتا۔۔۔۔میں نہیں جا رہی بس۔۔۔۔اِس چھوٹے کانوں والے بندر کو لے جاۓ۔۔۔" زارا نے حمزہ کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔۔

"اگر میں کہ رہا ہوں کہ آپ ہی جاؤ گی تو مطلب آپکو جانا پڑے گا۔۔۔ہاں البتا اگر آپ اپنے بابا کی نافرمانی کرنا چاہتی ہو تو۔۔۔۔as you wish" صدیقی صاحب نے سنجیدہ مگر دھیمی آواز میں کہا۔۔۔۔۔جس پر زارا کوئی جواب دیے بغیر اپنی شال لینے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔۔

"انکل میں چلی جاتی رابیہ کے ساتھ۔۔۔دیکھیں زارا کتنی آپ سیٹ ہو گئی ہے۔۔۔۔"ثناء نے سرسری سا شکوہ کیا۔۔۔۔۔

"بیٹا آخر کب وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے نفرت لیے پھرتی رہیں گیں۔۔۔ کچھ وقت ساتھ گزرے گا تو خود ہی شکوے دور ہوتے جائیں گیں۔۔۔۔"

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

گھر سے مال تک کا سفر آدھ بونے گھنٹے کا تھا اور اس دوران نہ تو زارا کچھ بولی نہ ہی رابیہ نے تکالف کیا۔۔۔۔۔موسم اچھا ہونے کی وجہ سے کار کے شیشے کھلے تھے۔۔۔۔۔۔مال پہنچتے ہی وہ دونوں اپنی اپنی شاپنگ کرنے لگیں۔۔۔رابیہ کو جو ضروری چیزیں چاہیے تھیں وہ انھیں خرید رہی تھی اور زارا شاپنگ مال آکر شاپنگ نہ کرے ایسا نہ کبھی ہوا تھا اور نہ ہی ہونا تھا۔۔۔۔

اپنی شاپنگ مکمل کرنے کے بعد وہ رابیہ کہ پاس گئ جو دکاندار سے ایک فراک کی پرائس پوچھ رہی تھی۔۔۔۔۔

"یہ کیوں۔۔۔۔" زارا کے پوچھا۔۔۔۔

"آج مہمان آنے ہے نہ اتنی دور سے۔۔۔تو اِس لیے سوچا کہ نیا ڈریس ہی لے لوں۔۔۔۔" رابیہ کے بتانے پر زارا کے لب "اوہ" میں تبدیل ہوۓ۔۔۔۔۔

"ایک منٹ!!!۔۔۔۔اگر یہ مجھ سے زیادہ پیاری لگ گی۔۔۔۔ہاۓ اور اگر سمیر کی نظریں اِس پر ٹہر۔۔۔۔اوو نئ نئ زارا سمیر ایسا تھوڑی ہے۔۔۔۔۔پر اگر ایسا ہو گیا۔۔۔۔نئ۔۔۔۔" زارا اپنے آپ سے بحث کرنے میں مصروف تھی اور رابیہ نے فراک کے پیسے  دکاندار کو دے بھی دیے۔۔۔۔اُسے ہوش تب آیا جب رابیہ نے گھر واپس چلنے کو کہا کیونکہ موسم اب مذید خواب ہو رہا تھا۔۔۔وہ ہوائیں جو کچھ گھنٹوں میں روح کو سکون اور اطمنان بخشتی تھیں وہ اب چبھنے لگیں تھیں۔۔۔۔۔زارا سر جھٹک کر بحث سے باہر نکلی  اور رابیہ کے پیچھے ہولی۔۔۔۔۔۔

ڈرائیور کسی کام سے گیا تھا سو وہ مال کے باہر کھڑی اسکا انتظار کر رہی تھیں۔۔۔۔

"کہاں ہیں آپ۔۔۔ہم کب سے انتظار کر رہے ہیں۔۔۔ہیلو۔۔۔"ہوا کے شور کی وجہ سے آواز نہ سہی سے جا رہی تھی نہ آ ریا تھی۔۔۔۔لہذا زارا نے رابیہ کو وہیں کھڑے رہنے کا کہا اور خود مال کے اندر چلے گۓ کال کرنے۔۔۔۔۔

"ہاں جی بس پہنچ گیا میں۔۔۔۔۔آپ باہر آجائیں۔۔۔۔" تاریخ گواہ ہے ہر پاکستانی یونہی اگلے بندے کو تسلی دیتا ہے "کہ بس پہنچ گیا" چاہے وہ ابھی کار میں بیٹھا بھی نہ ہو۔۔۔۔۔خیر فون بند کر کے وہ باہر آئی تو  سامنے دیکھ کر ایک دم ساکت پڑ گئ۔۔۔۔رابیہ کے اِرد گرد تین  چار جوان اور دراز قد لڑکے کھڑے تھے۔۔۔"اووہ نو" زارا فوراً اُس طرف بھاگی۔۔۔۔۔۔ راستے میں اسکے قدم ٹہرے ۔۔ موسم خراب ہونے کی وجہ سے آس پاس کوئی نہیں تھا۔۔۔۔اور زارا خود بھی اتنی طاقت ور نہیں تھی کہ اکیلی  مقابلہ کر سکے۔۔۔لہذا وہ واپس مڑی اور مال میں سے چند لوگوں کو اکھٹا کرنے چلے گئی۔۔۔

رابیہ ایک دم سہمی کھڑے تھی۔۔۔وہ انسانوں کی شکل میں کھڑے شیطان اپنی تربیت کا ثبوت دیتے ہوئے اسکو ہاتھ لگانے کی کوشش کرتے۔۔۔۔رابیہ بھاگنے کی کوشش کرتی تو وہ اسکے سامنے آجاتے۔۔۔۔۔۔بار بار اُسے اپنے غلیظ ہاتھوں سے چھو کر آدم کی بیٹی کی بدحرمتی کرتے۔۔۔۔۔رابیہ چیخنے کی کوشش بھی کرتی تو اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا جاتا۔۔۔۔یہ کچھ منٹوں کا وہشیانہ کھیل رابیہ کے لیے گھنٹوں سا لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

مال کا کارڈ،مینیجر اور ایک دو لوگ  زارا کے ساتھ بھاگتے ہوئے باہر آۓ۔۔۔۔۔انہیں دیکھ کہ وہ لڑکے رابیہ سے دور ہٹے۔۔۔اس سے پہلے وہ بھاگتے انھیں پکڑ لیا گیا۔۔۔۔۔زارا ان کے قریب گئ اور ایک زور دار تھپڑ سامنے والے کے منہ پر مارا۔۔۔

"اگر  تمہاری بیٹی کہ ساتھ بھی کوئی ایسا ہی کرے تو؟؟۔۔۔۔ہنسو گے تم؟؟؟ہاں؟؟یا ان کا ساتھ دو گے یہ سب کرنے میں؟؟"  زارا کا غصہ ساتویں آسمان پر تھا۔۔۔۔اسکا بس چلتا تو وہ اس معاشرے کی گندگی کو یہیں زمین میں گاڑ دیتی۔۔۔۔۔۔

"چلو یہاں سے زارا۔۔۔۔"رابیہ جو ابھی تک ڈری ہوئی تھی وہ بس یہاں سے جانا چاہتی تھی۔۔۔۔

"ایسے کیسے چلیں رابیہ۔۔۔۔۔ان کی ہمت کیسے ہوئی تمہیں ہاتھ لگانے کی۔۔۔۔"زارا کے لہجے میں شدید غصہ تھا۔۔۔۔۔۔اس نے بائیں پیر کا جوتا اتارا اور زور زور سے انکے سروں پر مارنے لگی۔۔۔یہاں تک کے مال میں سے مذید چند لوگ نکل آۓ اور زارا کو روکنے لگے۔۔۔۔۔۔

"چلیں میڈم جانے دیں انھیں۔۔۔۔ایسے ہی تماشہ کھڑا ہو گا۔۔۔۔آگے سے ایسا نہیں کریں گیں۔۔۔۔"مینیجر نے زارا سے کہا جس پر زارا نیم رضامند تھی ۔۔کیوں نکہ اگر یہاں مذید لوگ جامع ہوتے تو تماشا رابیہ کا ہی بنتا۔۔۔۔اپنے جوتے سے اچھی طرح چھتول کرنے کے بعد وہ رک گئ مگر آنکھوں میں غصہ ابھی بھی شدید تھا۔۔۔۔۔

"ڈرائیور بھی آنے والا ہو گا چلو ہم چلتے ہیں۔۔۔۔"زارا نے رابیہ کا ہاتھ تھاما۔۔۔۔وہ  دونوں ہی یہ نہیں چاہتی تھی کہ گھر تک یہ بات پہنچے۔۔۔۔۔۔

"کسی کی بیٹی کے ساتھ کھیل کر اگر تم لوگ خود کو مرد ثابت کرنا چاہتے ہو۔۔۔تو تمہاری ایسی مردانگی پر لانت مبارک ہو تمہیں۔۔۔۔" ایک آخری جملہ ان ابلیس کے چیلوں کے منہ پر مارتے ہوئے زارا وہاں سے چل دی۔۔۔۔۔

Hyyyy viewers....after a long time....

Well kesa laga yeah chapter apko?? ...

Comments main zaroor batiyyy ga....

Don't forget to vote and share....

Bạn đang đọc truyện trên: AzTruyen.Top