part 7
لاؤ جی لاؤ مینو شگنا دی مہندی۔۔۔۔۔
مہندی کرے ہاتھ لال میر۔۔۔۔۔۔۔۔کمرے سے باہر نکلتے ہی گانے کی دھیمی آواز اُونچی ہوتی چلی گئی۔۔۔۔زارا کمرے سے باہر نکلی تو آس پاس کام میں مصروف لوگوں نے اسے دیکھا اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو گئے۔۔۔۔۔زارا ابھی تک کمرے سے باہر لاؤنچ میں کھڑی تھی۔۔۔۔سامنے سے گزرتی رابیہ نے زارا کو اوپر سے لے کر نیچے تک دیکھا اور زارا نے زرا سے شانے اچکائے ۔۔۔۔۔آپس کے تلخ تعلقات کے وجہ سے رابیہ نے اس کی کوئی تعریف نہیں کی مگر دل ہی دل میں سوچ ضرور رہی تھی کہ۔"منحوس ماری لگ تو پیاری رہی ہے۔۔۔"
۔۔۔زارا کم میکپ کے پیچھے چھپا پر جوش چہرہ لیے باہر لان میں آگئی جہاں تقریب کے انتظامات کیے گۓ تھے۔۔۔وہاں صرف خاندان کے ہی کچھ لوگ تھے ۔۔۔۔مگر ماشااللہ خاندان ہی اتنا بڑا تھا کہ وہ "کچھ!!" لوگ ہی بہت تھے۔۔۔۔زارا کے چہرے پر سنجیدگی اور شائستگی تھی گویا وہ سمجھدار دِکھنا چاہ رہی ہو!!۔۔۔لان میں چند مشترکہ کرسیوں پر براجمان سارہ بیگم (زارا کی امی) سمیت کچھ عورتیں بیٹھیں عورت ہونے کا فرض نبھا رہی تھیں۔۔۔یعنی چگلیوں میں قدرت مصروف تھیں۔۔۔۔زارا نے تیکھی مسکراتی نظر اُن پر ڈالی اور ایک طرف چل پڑی جہاں زارا کے بھائی ،بھابیاں ،ثناء،اسکے بہن بھائی اور کچھ مزید کزنز سمیت اکھٹے سیلفی لی جا رہی تھی۔۔۔۔زارا نے بھی شرکت فرما کر 'ثوابِ دارائین' حاصل کیا۔۔۔۔
"مجھے بھی لو سیلفی میں۔۔۔" زارا نے ہارس سے کہا جس کے ہاتھ میں موبائل تھا۔۔۔۔
"تمہارا بڑا سا منہ پورا نہیں آۓ گا۔۔۔" ہارس نے تنزیہ کہا اور جس پر رابیہ ہنسی۔۔۔۔۔
"بھائی یقین مانو۔۔اگر ایک آپ۔۔۔صرف ایک آپ اس سیلفی سے نکل جاؤ نہ تو چار پانچ بڑے منہ والے بندے آسانی سے سیلفی میں فٹ آسکتے ہیں۔۔۔" زارا نے تنز کا جواب تنز سے دیا۔۔۔مگر دونوں بہن بھائی گا تنز محض ایک مذاق تھا سو اُسے ہنس کر ٹال دیا کیا۔۔۔۔
"ریڈی؟؟؟" ہارس کے علان کرتے ہی سیلفی کے منتظر آدم مخلوق نے اُلٹے سیدھے منہ بناۓ اور "click" ہمیشہ کے لیے ایک خوبصورت یاد قید کر لی گئی۔۔۔۔۔
سیلفی کے بعد سب کھانے کے لیے ایک بڑے سے ڈرائنگ کی طرف بڑے جہاں بزرگ اور شادی شدہ پرنے جوڑے بیٹھ چکے تھے بس اِس نوجوان نسل کا انتظار تھا جو ہر تقریب میں تصویروں اور ویڈیوز کو بنانا اپنا اخلاقی فریضہ سمجھتے تھے۔۔۔۔۔
"سنو!!"علی(ثناء کا بھائی) نے زارا کو مخاطب کیا جا پر زارا "ہاں جی" کہتی رکی۔۔۔۔
"پیاری لگ رہی ہو لڑکی۔۔۔۔ایک سیلفی ہو جاۓ۔۔۔۔" علی نے موبائل ناکلا اور فرنٹ کیمرا کھولا اور زارا پر جوش سی ہو کر اسکی قریب ہوئی اور کیمرے کی طرف دیکھا۔۔۔۔
"مجھے بھی سینڈ کرنا لڑکے۔۔۔"زارا نے گویا ٹونٹ کیا ہو۔۔"لڑکی" والی بات پر۔۔۔علی زرا سا مسکرا کر آگے ہولیا!! اور زارا بھی اُسکے شانہ بشانہ چل پڑی۔۔۔۔۔
"تم اتنا چپ چپ کیوں رہتے ہو؟؟؟مطلب ہم اتنا بولتے ہیں اور تم نے تو جیسے الفاظ گِنے ہوۓ ہو کہ بس آج صرف دس الفاظ منہ سے نکلنے ہیں باقی کل کے لیے محفوظ کر لیتا ہوں۔۔۔۔" علی اس بار زرا کھل کر ہنسا۔۔۔
"بھئ تم کسی کو بولنے کا موقع دیتی ہو؟؟ اتنا بولتی ہو میں تو تمہیں بولتا دیکھ ہی تھک جاتا ہوں۔۔۔۔" علی سامنے دیکھتے ہوئے گرم جوشی اے بولا۔۔۔۔
"اگر میں چپ کر گئ تو سب اُداس ہو جائیں گیں۔۔۔"زارا نے سنجیدہ لیجے میں کہا گویا دماغ ہو کچھ اور چل رہا ہو۔۔۔
"سو تو ہے۔۔۔۔۔تم بولتی ہی اچھی لگتی ہو محترمہ!" علی کی بات پر زارا حیران ہوئی۔۔۔"محترمہ!؟"۔۔۔۔
"میں بزرگوں کو عزت دینے میں یقین رکھتا ہوں۔۔۔۔۔you little pumpkin!"علی نے مسکراتی آنکھوں سے زارا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔جس پر زارا ہنسی کہ "بزرگ!!" " "صرف دو دن ہی تو بڑی ہوں تم سے؟؟" زارا کی مسکراتی آنکھیں علی کی گہری سیاہ آنکھوں سے ذیادہ پیاری تھیں۔۔۔۔
ثناء کے آواز دینے پر علی کے چلتے قدم مضبوط اور تیز ہوئے جبکہ زارا پیچھے رہ گئ۔۔۔۔ماضی کی خوبصورت یادیں آسکے ذہن میں گھومنے لگی!!۔۔۔۔"pumpkin".....
(موجودہ دن سے چار سال قبل جب زارا نے سمیر کے اظہارِ محبت کا جواب ہاں میں دیا تھا۔۔۔")
"سنیں تو!!!" زارا نے پہلی بار سمیر کو عزت بخشی تھی!! جس کے جواب میں سمیر نے"سنیں تو!!؟ ساری عمر آپکی ہی تو سننی ہے!!" کہا تھا۔۔۔۔
"میں آپکی meaow meaow بنے کے لیے تیار ہوں مگر میری کچھ شرتیں ہیں:-
۔1) آپ مجھے ڈانٹیں گے نہیں!!
۔2) مجھے پیارے پیرے ناموں سے بلایا کریں گیں۔۔۔
۔3) اور مجھے لاڈلی بنا لی رکھیں گیں!! " زارا نے شرتیوں کی غالباً مختصر سی فہرست بیاں کی۔۔۔۔
"ہاہاہا یار اتنی مشکل شرتیں!!۔۔۔یہ تو ہم سے نہ ہو پاۓ گا!!" سمیر نے مذاق سے کہا۔۔۔۔
" تو بس ٹھیک ہے۔۔۔میں نئ۔۔!!"زارا نے رونی صورت بنائی۔۔۔ بےشک زارا چار سال پہلے کافی معصوم اور روندو ہوا کرتی تھی۔۔۔۔جس میں ابھی بھی کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔
"اچھا اچھا ٹھیک ہے۔۔۔ڈانٹوں گا نہیں پکا!!۔۔۔۔مگر کیا پیار سے لالٹین (laaltain) بلا سکتا ہوں۔" سمیر کی دبی دبی سی مسکراہٹ اسکے چہرے کی رونق میں اضافہ کر رہی تھی۔۔۔۔۔زارا شکوہ بھرے تاثرات سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
"میری جان ہو تم زارا۔۔۔تم جو کہو گی ویسا ہی ہو گا۔۔۔۔بس مجھے چھوڑ کے کبھی نہ جانا۔۔۔۔" سمیر کی نے زارا کے منہ پر آتے بالوں کے ہٹاتے ہوئے کہا۔۔۔
"میں کیوں چھوڑ کر جاؤں گی۔۔۔۔آپ تو pumpkin ہو میرے اور میں sameer'spumpkin...." زارا کی اس بات پر سمیر کو زارا پر مزید پیار آیا۔۔۔
"اچھا تو sameer's pumpkin بات سنو۔۔۔"اب کہ سمیر کی آنکھوں میں شرارت تھی۔۔۔۔۔
"یہ میں نے ڈانٹنے والی بات پر تھوڑا غور و فکر کیا ہے!!۔۔۔اگر کبھی تم پر غصہ آجائے تو تمہاری cheeks پر kuchi kuchi کر سکتا ہوں؟؟" سمیر سمیت زارا کھلکھلا کر ہنسے۔۔۔اور خیالوں میں گم زارا بھی بلکل اُسی طرح ہنسی۔۔۔۔۔وہ مزید خیالوں کی خوبصورت دنیا میں کھوئی رہتی مگر جب اُس بے اپنے آپ کو ڈائننگ ٹیبل کے قریب پایا تو سر جھٹک کر ماضی کے خیالوں سے باہر نکلی اور سمبھل کر کرسی پر بیٹھی۔۔۔۔۔
"""""""""""""""""""""
کھانے کے بعد تمام بزرگ مرد حضرات گھر کے اندر چلے گۓ اور اکیسویں صدی کی نوجوان نسل وہیں "شُگل(fun)" لگانے کے لئے لان میں ہی رہی۔۔۔۔صدیقی صاحب (زارا کے پاپا) البتا بزرگوں کی فہرست میں شامل نہ تھے مگر انہیں کمپنی دینے کے لیے وہ بھی اندر چلے گۓ۔۔۔۔۔
رات کت تقریباً 2 3 بجے تک فنکشن جاری رہا۔۔۔۔جس می سب نے خوب مزا کیا۔۔۔۔پنجابی اردو اور بالی وڈ کے گانوں پر زارا سمیت مزید کزنز نے ڈانس کیا جنہیں کرنا آتا تھا۔۔۔۔مگر وہاں کچھ ایسی عظیم ہستیاں بھی موجود تھیں جو ڈانس کرنا جانتے تھے مگر بے وقت شرماہٹ کی وجہ سے ڈانس کرنے سے قاصر تھے۔۔۔۔۔جن کا زارا،ثناء،رابیہ،علی اور جویریہ(اسامہ کی بیوی) پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا تھا وہ اپنی مستی میں گم تھے۔۔۔۔۔ڈانس اور باقی تقریبات کی ویڈیوز اور تصویریں بھی بنائی گئی۔۔۔۔جب سب تھک ٹوٹ گۓ تو فنکشن کا اختتام کیا اور کمروں میں چلے گئے۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
"جس جس کے پاس جو جو تصویریں ہیں وہ گرپ میں سنڈ کر دے۔۔۔۔۔"اسامہ نے فیملی گروپ
"گلستانِ پنجاب" جس میں تمال لوگ ہاشم اور سمیر سمیت موجود تھے۔۔۔اس میں میسج کیا۔۔۔۔۔اور جابجہ تصویریں اور ویڈیوز آتی گئیں۔۔۔۔
'زوں۔۔زوں۔۔۔زوں۔۔۔۔۔۔۔۔" سمیر اپنے کمرے کی بالکونی میں موجود تھا جب اچانک سے اسکے موبائل پر ایک کے بعد ایک میسج آتے گۓ۔۔۔وہ گروپ کے ہی میسج تھے۔۔۔۔۔سمیر کے چہرے پر مسکراہٹ جھلکی۔۔۔
"مطلب فنکشنل ختم ہو گیا۔۔۔" سمیر فنکشن کی وجہ سے زارا کو کال نہیں کی تھی کہ وہ مصروف ہو گی۔۔۔۔اور وہ اُسی سے بات کرنے کے لیے جاگ رہا تھا کہ فنکشن ختم ہو اور وہ زارا سے بات کرت۔۔۔کیونکہ اسے کال کے لیے تیاری بھی کرنی تھی۔۔۔کال فلائٹ جو تھی اسکی۔۔۔۔۔۔۔۔اُس نے زارا کو میسج کیا مگر اُسکا جوا نہیں آیا۔۔۔سو وہ گروپ میں بھیجی گئی تصویریں دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
ایک کے بعد ایک تصویر آگے کرتا گیا۔۔۔چہرے پر مسکراہٹ قائم تھی۔۔۔مگر اچانک ہاتھ رکا۔۔۔۔چہرے کی مسکراہٹ سمیٹ گئ۔۔۔پیشانی پر بل پڑے۔۔۔اور آنکھوں میں غصہ۔۔۔۔۔وہ کوئ تصویر نہیں تھی بلکہ ایک ویڈیو تھی۔۔۔جس میں زارا اور علی اکھٹے ڈانس کر رہے تھے۔۔۔۔
"دھوپ سے نکل کے چھاؤں سے پھسل کہ۔۔۔ہم ملے جہاں پر لمحا تھم گیا!!" گانے کی شیریں آواز سمیر کے لیے زہر تھی۔۔۔۔۔"لمحا تھم گیا۔۔" فکرے پر جب علی نے زارا کا ہاتھ تھامہ تو سمیر کے دل پر گویا کسی نے پیر رکھ دیا ہو۔۔۔۔آنکھوں میں تیش بڑھا۔۔۔پیشانی کے بل مضبوط ہوئے۔۔۔چہرے کا رنگ شدید غصے کی وجہ سے لال پڑ کیا۔۔۔۔
"زاراااااا۔۔۔۔" سمیر نے غصے سے ہاتھ دیوار پر مارا۔۔۔جیسے اِس بار کا غصہ اسکی برداشت سے باہر ہو۔۔۔۔اپنے عشق کو کسی اور کے ساتھ دیکھنا کتنا مشکل ہے یہ وہی سمجھ سکتا ہے۔۔۔جو عشق جیسے جزبات سے واقف ہو۔۔۔۔۔۔۔
Hyy lovies hope you like this chapter.....
Qs:-
Sameer ka next reaction kiya ho ga??....wo kiya kary ga??
Don't forget to vote and share....
Bạn đang đọc truyện trên: AzTruyen.Top