chapter 16
آج کا پورا دن زارا اور اسکی فیملی کے لیے بہت اچھا گزرا ۔۔۔بارات 12 بجے تک ہال پہنچ گئ تھی جو کے کافی خوبصورت اور وسیع تھا۔۔۔مردوں اور عورتوں کا انتظام الگ الگ تھا جس کی وجہ سے زارا ہارس کو تنگ کرنے میں ناکام رہی تھی۔۔ مگر اُس نے ہاشم کو ہدایت کر رکھی تھی کہ جو بھی ہو جاۓ اِسے (ہارس) سکون سے نہیں بیٹھنے دینا۔اور ہاشم کی تو رگ رگ میں شیطانیاں بسی ہوئی تھیں۔۔۔کھانا کھلنے کے قریب وہ ایک چکر عورتوں والی سائڈ پر لگا آیا اور آکر ہارس کو کہتا
"یار دھوکا ہو گیا ہے۔۔۔بھابھی تو تیری امی کی عمر کی لگتی ہیں۔۔۔اور اتنی لمبی ہے کہ بس دعا کر تو اُسکے کندھوں تک آجاۓ۔۔۔کیمرے نے دھوکا دے دیا ہمیں۔۔۔جو تصویروں میں شہزادی لگتی تھی اصل میں شہزادیوں کی امی ہے"۔۔۔۔ہاشم کی بات پر ہارس پریشان سا ہوگیا۔۔مگر جب اُس نے "حور" نامی اپنی حور کو اصل میں دیکھا تو دل اور دھڑکن دونوں بہال ہوۓ (ہاشم کو تو میں بعد میں دیکھ لوں گا)
خیر الله الله کر کے فنکشن اچھے سے گزر گیا۔۔۔۔۔اور وہ کسی کی خوبصورت سی پری کو چُرا کر ہمیشہ کے لیے اپنے گھر لے آئے۔۔۔۔
یہ تمام باتیں موجود وقت سے کچھ کھنٹے پہلے کی ہیں۔اس وقت صدیقی صاحب کی گھر میں کافی چہل پہل تھی۔۔۔شام کے 7 بج چکے تھے۔۔۔سب عورتیں ہارس کے کمرے میں جمع تھے جہاں دلہن اپنے لال لہنگے میں بیٹھی تھی اور تمام مرد لاؤنج میں بیٹھے ہارس کی ٹانگ کھنچ رہے تھے۔۔آہستہ آہستہ وقت نے رفتار پکری اور گہری رات کے سائے ہر طرف پھیل گۓ۔۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°
رات گہری ہونے کے ساتھ ساتھ کافی سرد بھی تھی۔۔۔جہاں ہارس اور حور اپنے کمرے میں بیٹھے ساتوں جنم ساتھ رہنے کے وعدے کر رہے تھے وہیں ٹیرس پر کھڑے ہاشم اور سمیر مرضِ عشق پر تبصرہ کرنے میں مصروف تھے۔۔۔
"یار کاش اس وقت تیرے بجائے رابی میرے ساتھ ہوتی یہاں۔۔۔" ہاشم نے بے دھیانی میں اپنا ہاتھ سمیر کے ہاتھ پر رکھ دیا ۔۔جسے سمیر نے "اووےےے" کہتے ہوئے فوراً پیچھے ہٹایا۔۔۔
"چوچے یار کوئی خدا کا خوف کر میں کسی اور کی امانت ہوں۔۔۔"
"الله۔۔۔۔میں ایسا نہیں ہوں سمیر کے بچے۔۔۔۔"ہاشم غصے سے بولا "وہ تو بس رابی" اور پھر نزاکت سے۔۔۔۔۔
"ہاۓ یہ محبت بھی نہ۔۔۔سالی انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔۔۔" سمیر نے ہاشم کو اوپر سے لے کر نیچے تک دیکھا۔۔۔۔
" ہاں یار۔۔۔کیا بتاؤں۔۔۔مجھے نہ تیری بھابھی سے سئ(سہی) والا I lub joo ہو گیا ہے۔۔۔۔"ہاشم دور اُفق میں کسی نادیدہ ستارے کو دیکھ کر بولا۔۔۔۔
"اچھا اور میں نے سنا ہے تو نے مولوی بن جانا ہے۔۔۔ویسے سہی ہے۔۔۔گھر میں مولوی ہو گا تو بچوں(سمیر اور ہاشم کے) کو دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے باہر نہیں جانا پڑے گا۔۔۔۔"سمیر نے شرارتی آنکھوں سے ہاشم کو دیکھتے ہوۓ اُسکی ٹانگ کھنچی۔۔۔۔جس پر ہاشم منصوعی سنجیدگی دیکھتے ہوۓ بولا "تیرے بچوں کی میں فیس لوں گا۔۔۔"
"میں خود ہی پڑھا لوں گا۔۔۔ویسے بھی تیرے سے انھوں نے پڑھنا بھی نہیں ہے۔۔۔باپ کا ڈنڈا سر پے ہوگا تب ہی 'بندے دے پُتر' (انسان) بنے گیں۔۔۔"
"مطلب باپ نہیں تو نے نیلی آنکھوں والا جلاّد بننا ہے"دونوں ہنس پڑے۔۔۔
"ویسے ہاشم میرے لال۔۔۔تجھے کوئی بھولی سی لڑکی نہیں ملی تھی؟؟ یہ رابی مجھے بہت چلاک لگتی ہے۔۔۔"چند لمحے ہنسنے کے بعد سمیر نرمی سے بولا۔۔۔۔
"نہیں بھولی لڑکیاں مجھے دھوکا سے دیتی ہیں" ہاشم زخمی سا مسکرایا۔سمیر سمجھ سکتا تھا کہ وہ کس طرف اشارہ کر رہا ہے۔۔
"اور ویسے میرے جیسے ہینڈسم لڑکے جس میں خوبصورتی،کشش اور معصومیت کی انتہا ہو ان پہ لڑکیاں جلدی مرتیں ہیں۔۔۔اس لیے رابی کو چلاک و ماسی ہی ہونا چاہیے ورنہ اُسکے اکلوتا سہاگ کوئی اور لے اُڑے گی۔۔۔"۔۔۔ہاشم نے اپنی شان میں ایک گہری بات بولی جس کا جواب میں سمیر بولنے ہی لگا تھا مگر پیچھے سے زارا کی آواز گونجی۔۔۔۔
"کس کو تباہ-و-برباد کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔۔"زارا جس نے کوئی بات نہیں سنی تھی دونوں کو بات کرتا دیکھ مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔۔
"ہم کیوں بتائیں؟؟" ہاشم نے شانے اچکائے اور زارا نے نظریں تیکھی کرتے ہوئے اُسے دیکھا "بندا بن جا"۔۔
سمیر زارا اور ہاشم گفتگو میں مصروف تھے جب رابی بھی تیز تیز قدم چلتی اِن تک آئی۔۔۔۔۔
" ہاشم آپکو اپکے پاپا بلا رہے ہیں۔۔۔"رابیہ نظریں جھکا شرماہٹ سے بولی۔۔۔
"ہاں جی میں آتا ہوں۔۔"۔۔۔۔
"ہاں تم دونوں جاؤ میں اور سمیر آتے ہیں۔۔۔"رابیہ کو سب پتا تھا تو زارا کو اُس کے سامنے کچھ بھی بول سکتی تھی۔۔۔۔۔
"ابھی چگلیاں باقی ہیں؟؟؟ مجھے لگا تھا کل رات کو کر لی ہوں گیں ساری۔۔۔مگر افففف تم لڑکیاں بھی نہ۔۔" ہاشم نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔۔
"زارا نےسوالیہ نظروں سے ہاشم کو دیکھا پھر سمیر کو (اِسے کیسے پتا چلا کہ میں کل کمرے میں آئی تھی!!) بولا نہیں صرف سوچا۔۔۔۔
"میں چوچا نہیں ہوں مسز ہونے والی سمیر!!"ہاشم مسکرایا۔۔۔۔
"میں۔۔۔۔۔"وہ پوری بات بتانے لگا تھا۔۔۔مگر رکا۔۔"اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھو"رابیہ کو اشارہ کیا اور رابیہ نے مسکراہٹ دباتے ہوئے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھے۔۔۔۔
"میں کل جان بوجھ کر سمیر کے ساتھ نہیں سویا تھا۔۔۔مجھے پتا تھا تم روتی مرتی میرے چاند بھائی کے پاس میری شکایت کرنے ضرور آؤ گی۔۔۔۔اور میں ٹہرا رحم دل سو میں نے سوچا کیا یاد کرو گی۔۔۔ایش کرو۔۔۔ہلکا کر لو اپنے دل کا بوجھ میرے جیسی عظیم شخصیت کی چگلی کر کے۔۔۔ " ہاشم نے اپنی رحم دل کا قصا سنایا ۔۔۔۔زارا نے مسکراتے ہوئے "اچھا!!" والے انداز میں ابرو اٹھے جبکہ سمیر خاموشی سے ہنسی دباۓ کھڑا تھا۔۔۔
"تم نے کچھ سنا تو نہیں؟؟" رابی کے کانوں پر سے ہاتھ ہٹائے تو ہاشم نے پوچھا جس پر اس نے بڑی معصومیت اور نزاکت سے سر نفی میں ہلایا۔۔۔
"اچھا بچو میں چلتا ہوں۔۔۔"ہاشم نیچے جانے کے لیے مڑا۔۔"by the way..thanx me later....زاروووو"۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ہاشم اور رابیہ کے چلے جانے کے بعد سمیر اور زارا اکیلے رہ گئے۔۔۔۔۔
"کوئی ضروری بات کرنی ہے؟؟؟" سمیر نے زارا کا دایاں ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما۔۔۔
"آپکو کیسے پتا؟؟"۔۔۔
"آپکے دل نے بتایا!!! زارا جی۔۔۔"سمیر کی نیلی آنکھوں میں زارا کے لیے پیار صاف جھلک رہا تھا۔۔۔۔
"رشتے کی بات کب کرنی ہے یار!! مجھے اب ڈر لگنے لگا ہے۔۔۔اور علی کوئی مسئلہ کرے گا تو؟؟؟" زارا فکرمند تھی۔۔۔
" ماما کہ رہی تھیں۔۔ایک بار یہ شادی کی بھیڑ بھاڑ ختم ہو جائے پھر کریں گیں۔۔۔۔ہماری۔۔۔اور ہاشم کی بھی۔۔۔۔اور رہی بات اُس بلے(علی) کی۔۔۔اسکو پیار اے سمجھا دیا تھا۔۔۔وہ کوئی مسئلہ نہیں کرے کا۔۔۔"سمیر نرمی سے بولے جارہا تھا اور سنتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔
To be ahm ahm continued!!
Kaisi lagi aj ki episode..???
NOTE !!( chotu sa)
Walima function main add nhi kar rhi...kiyon k itny dino main to banda 4 5 bar shadiyan kar ly...mtlb late updates you know!!
To next episode shadi waly mahol sy hatt kar ho gi....
Ta ta bye bye!!! See you....
Or rozy daro Allah rasool k piyaro vote kar dya karo yarrr!!! Main bol bol k thak gai magar majal ha jo asar ho!!! *gussy wali emoji*
Changa fy rab rakha.episode sy lambi to meri batain hain *laughs*
Bạn đang đọc truyện trên: AzTruyen.Top