part 17
ایک ہفتے بعد!
شادی کی خوبصورت کھٹی مٹھی تقریب کو ہفتہ گزر چکا تھا۔مہمان بھی اب اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو چکی تھی۔۔۔گھر کی چہل پہل میں کچھ حد تک کمی آگئی تھی مگر رونق ویسے ہی قائم تھی۔۔۔سمیر اور اُنکے گھر والے ایک مہینے کی چھٹی کے لیے آئے تھے کیونکہ "باہر(دوسرے ملک) سے ہمارے پیارے پاکستان میں آنا کوئی مذاق کی بات تھوڑی ہے۔۔۔۔سو لوگوں سے ملنا ملانا ہوتا ہے اور روز روز تھوڑی پاکستان آیا جاتا ہے۔۔" کچھ اِسی طرح کے الفاظ طاہرہ (سمیر کی امی) کے تھے جب سمیر نے جلدی کام(زارا اور سمیر کا رشتہ)نبٹا کر کر واپس چلنے کو کہا تھا۔۔۔۔
حور اپنے مجازی خدا کے ہمراہ سیر سپاٹے اور دعوتوں میں مصروف تھی سو وہ گھر میں کم ہی وقت گزر پاتے تھے۔۔۔باقی گھر والوں کی روٹین پہلے جیسی ہی تھی۔۔۔۔صبح سے شام تک مصروف اور رات کو تسلی سے ایک دوسرے کو جگتیں مارا کرتے تھے۔۔۔۔رابیہ اور اُسکے گھر والے بھی اکثر ہی آجاتے مگر علی کم ہی آتا۔۔۔
یہ ایک ہفتہ کافی پُر سکون اور آرام دہ تھا۔۔۔۔سمیر اور زارا نےکافی وقت ساتھ گزارا۔۔رابیہ اور زارا کے آپس کے تعلقات بھی کافی سلجھ گۓ تھے۔باقی ایک اہم شخصیت جس میں کوئی تبدیلی نہی آئی تھی وہ تھا ہاشم۔۔وہ پہلے ہی کی طرح پر پرسکون اور مسکراتا دنیا سے بےخبر اپنی شیطانیوں میں مصروف رہتا۔۔۔۔
سب نارمل رتھا۔۔موجودہ دن سے پہلے۔۔۔آج دو لوگوں کی زندگیوں کا فیصلہ کیا جانا تھا۔۔۔۔سمیر کے بہت اثرار پر آج طاہرہ بیگم نے سب سے رشتے کی بات کرنی تھی۔۔۔جس کے لیے وہ زارا اور سمیر دونوں سے زیادہ گھبرائی ہوئی لگ رہی تھیں۔۔۔انہوں نے اشاروں اشاروں میں زارا کی امی سے اکثر بات کی تھی مگر اشاروں میں بات کرنا اصل میں بات کرنے سے مختلف ہوتا ہے۔۔لہذا آج انہوں نے سیدھے الفاظ میں اپنے بیٹے کا ہاتھ انکی بیٹی کے لیے مانگنے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°
موجودہ دن کی صبح باسی پڑ کر دوپہر میں تبدیل ہوچکی تھی۔۔ دھوپ کے باعث نیم سرد سی دوپہر کافی خوشگوار سی لگ رہی تھی۔۔۔تمام گھر والے اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔۔سمیر صدیقی صاحب اور اپنے بابا کے ہمراہ کسی سے ملنے گیا تھا سارہ بیگم اپنی نئی سہیلی طاہرہ اور ایک بہو کے ساتھ مل کر کچن میں کچھ بنا رہی تھیں اور ساتھ ساتھ حسبِ دستور زارا کو اُسکے لیٹ اٹھنے پر لیکچر بھی دے رہیں تھیں جسکا زارا پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔
ان سب چیزوں سے بےخبر ایک کمرے میں جائےنماز بچھائے ہاشم ظہر کی نماز ادا کر رہا تھا۔۔۔۔آخری دو رکعتوں کے لیے جب اُس نے تقبیرِ تہریمہ کے لیے ہاتھ اُٹھائے تو دروازہ کھلنے کی آواز اُسکے کانوں میں پڑی مگر چند ہی لمحوں میں دروازہ بند ہو گیا۔۔۔ہاشم نے نماز مکمل کی اور دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے مگر اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ پہلے الله سے نمازیں نہ پڑھنے کی معافی مانگے یہ اپنا مطالبہ الله کے سامنے پیش کرے۔۔۔۔"خیر ہر مومن کی طرح اُس نے سچے دل سے اپنے ہر گناہ کی توبہ کی اور مسلمان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے نمازیں وقت پر پڑھنے اور آگے سے کوئی بھی گناہ نہ کرنے کا الله سے وعدہ کیا"۔۔۔۔اس کے بعد اُس نے الله کے سامنے اپنی اصل بات رکھی۔۔۔
"یا اللہ۔۔۔ایک بات کرنی تھی۔۔۔"ہاشم کو لوگوں کی طرح مشکل لفظوں میں دعائیں مانگنا نہیں آتیں تھی۔۔۔وہ ہمیشہ الله سے ایسے ہی دعائیں کیا کرتا تھا سادہ الفاظ میں جسی کوئی اپنے پکے دوست سے باتیں کر رہا ہو ۔۔۔۔دل ہی دل میں اپنے رب سے تمام باتیں کر وہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لیتا۔۔۔
"آج ماما نے زارا اور سمیر کی رشتے کی بات کرنی ہے۔۔۔۔مجھے پتا ہے آپ سب ٹھیک ہی کرو گے۔۔۔مگر میں بس تھوڑا سا پریشان ہوں الله جی۔۔۔" وہ نرم لہجے میں بولے جا رہا تھا اور ہاتھ ہنوز دعا کے لیے اٹھائے ہوئے تھے۔۔۔
اللہ جی میں نے زارا سے کہا تھا کے " جب خدا کی مصلحتیں سمجھ آجائیں تو دل ضد چھوڑ دیتا ہے۔۔۔" مگر الله جی میرے دل نے ضد نہیں چھوڑی تھی کیونکہ زارا میری ضد تھی ہی نہیں۔۔وہ تو میرا پیار تھی۔۔۔میرا سچا اور پہلا پیار۔۔۔۔"یہ کہتے ہوئے ہاشم کی آنکھیں نم ہو گئیں۔۔۔۔
"اللہ جی مجھے تب بھی زارا چاہیے تھی اور اب بھی چاہیے۔۔۔مگر فرق صرف اتنا ہے کہ تب زارا مجھے اپنے لیے چاہیے تھی پر اب اپنے بھائی کے لیے چاہیے میں نے سمیر کے لیے اور زارا کی آنکھوں میں اُس (سمیر) کے لیے جو محبت دیکھی تھی اس کے لیے قربانی دی تھی۔۔۔۔پلیز الله جی میری قربانی ضائع مت ہونے دینا۔۔۔۔اللہ جی ان دونوں کو ہمیشہ خوش رکھنا اور ساتھ ساتھ رکھنا۔۔۔۔۔'امین' " نم آنکھوں میں اب اطمینان نظر آنے لگا۔۔۔۔
ہاشم نے جیسے کی جائے نماز اُٹھایا کمری کا دروازہ پھر سے کھلا۔۔۔اس بار اُس نے مڑ کر دیکھا تو ایک مسکراتا چہرہ قدم قدم چلتا اُسکے سامنے آ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔
"خیر تو ہے آج تو لوگ ہاجی صاحب بنے ہوئے ہیں۔۔۔" زارا نے اوپر سے لے کر نیچے تک ہاشم کو دیکھا۔۔۔۔
"بس جی آج الله نے حاضری لگونے کے لیے بلایا تھا۔۔۔۔" ہاشم نے مسکرا کر جواب دیا۔۔
"ویسے نماز مسجد میں جا کر باجماعت پڑھی جاتی ہے۔۔پاگل۔۔۔۔"۔۔
"مجھے الله سے اکیلے میں کچھ ضروری باتیں کرنی تھیں۔۔۔" اور ہاشم کی بات پر زرا نے "اوووہ" میں لب سکیڑے۔۔۔وہ اصل میں حیران ہوگئ تھی کہ اتنا پرجوش انسان آج اتنا سنجیدہ کیوں؟!!!!!
°°°°°°°°°°°°°°
To be continued!!!!
Iss sy agyyy ki episode subha tak aa jay gi......Kiyon k agar main ak sath sab likhti to episode bht ziyada lambi ho jani thi jiss main mazeed kucj din lagny thy...or agar or kuch din main update na karti to wo log jo pm main bar bar msg kar rhy hain unhon ny meri jaan ly leni thi...opssss....
Khair just wait for tomorrow.....next episode is half edited....jisy main kal full edit kar k update karun gi.....
Important qs:-
'Yeah jo sachy momin ki tarhan mafi mangi 'wali bat main ny likhi ha...kiya koi is puri bat ka mafhoom bata sakta ha??? K main ny asal main kaha kiya ha..."momin or musliman" ko kiyon use kiya ha....iss bat ki gehrai kiya ha???
NOTE yeah net sy nhi mily ga answer...yeah mery apny hi words hain
Bạn đang đọc truyện trên: AzTruyen.Top