chapter 15
رات 2 بجے کا وقت تھا لوگوں کو نیند نے اپنی آغوش میں لے رکھا تھا مگر صدیقی صاحب کے گھر میں ایک کمرہ روشن تھا۔۔۔۔بالکونی کے کھلے دروازے سے اندر جھانکو تو نیچے بیڈ کے قریب ایک لڑکی مرجھائی سی بیٹھی تھی۔۔۔۔
مہندی کی تقریب کب شروع ہوئی کب ختم زارا اس سب سے انجان اپنے آپ میں قید تھی۔۔۔۔
زارا کے مرجھائی صورت کے ذمہ دار ہاشم کے وہ تلخ الفاظ اُسے بار بار یاد آرہے تھے اور زارا کو ہر بار پہلی بار جنتنا ہی دکھ ہوتا۔۔۔۔ہاشم نے کبھی اس سے اس لہجے میں بات نہی کی تھی۔۔۔۔
اپنے خیالات اور غم سے نجات پانے کے لیے زارا نے سمیر کے پاس اپنا مقدمہ لے جانے کا فیصلہ کیا۔زارا کے قدموں نے خاموشی سے سمیر کے کمرے تک کا فاصلہ تہ کیا۔
سمیر کمرے میں ہی تھا جبکہ ہاشم آج اِدھر نہیں سویا تھا وہ آج علی کے ساتھ اسکے کمرے میں سویا تھا اُسکے زخموں پر نمک چھڑکنے کے لیے۔ زارا نے آہستہ سے دروازہ کھولا تو سمیر بیڈ کی بجائے صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کوئی کام کر رہا تھا۔۔کمرے میں نیلے رنگ کی ہلکی سے روشنی تھی جس میں سمیر کو واضح دیکھا جا سکتا تھا۔۔۔
"خیریت؟؟" زارا کو اس وقت اپنے کمرے میں موجود دیکھ کر سمیر نے سرسری سا پوچھا جبکہ نظریں ہنوز لیپ ٹاپ پر مرکوز تھیں۔
زارا قدم قدم چلتی خاموشی سے سمیر کے پاس آبیٹھی۔۔۔۔۔جب زارا نے کوئی جواب نہ دیا تو سمیر نے سوالیہ نظروں سے زارا کو دیکھا۔اور تب اُسے انداز ہوا کہ وہ روئی ہے۔۔۔۔
"کیا ہوا زارا؟؟؟ کسی نے کچھ کہا ہے کیا؟؟"سمیر اب پورا زارا کی طرف مڑ چکا تھا۔۔
"ہاشم نے!!" زارا نے نم آواز میں جواب دیا۔۔۔۔
"کیا؟؟؟"۔۔۔
"ہاشم نے مجھے ڈانٹا ہے۔۔۔"یہ کہتے ہوئے دو چھوٹے چھوٹے آنسو ٹوٹ کر زارا کی گال پر گرے۔۔۔۔
"ہیں؟؟؟؟؟؟۔۔مطلب؟؟" سمیر نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔۔۔۔ادھوری بات اسے ہظم نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔
"ہاشم نے مجھے کہا۔۔۔۔۔" اور زارا نے لفظ با لفظ ساری بات بتائی جس پر سمیر بمشکل ہنسی روک پایا۔۔۔۔
"اچھا تو اب میری پارو کو دکھ کسی بات کا ہے؟؟ ہاشم چوچے کے ڈانٹنے کا یا رابیہ بھابھی۔۔۔۔۔" سمیر کے الفاظ وہیں تھم گۓ جب زارا نے غصیلی نظروں سے دیکھا۔۔۔
"آممم میرا مطلب رابیہ کے ہاشم پر ڈورے ڈالنے سے؟؟" سمیر نے مثبت الفاظ اکھٹے کرتے ہوئے بات مکمل کی۔۔۔۔
"دونوں!!!" زارا نے نظریں جھکا لیں۔۔۔
"یارررر۔۔۔اتنی اتنی سی باتوں پر آنسو ضائع کر رہی ہو۔۔۔ابھی تو رخصتی بھی ہونی ہے اس کے لیے بھی بچا لو تھوڑے۔۔۔۔"۔۔
"مجھے ہنسی نہی آئی" زارا واقعی سنجیدہ تھی۔۔۔۔
"اچھا بات سنو۔۔۔۔ہاشم کو میں ڈانٹ دوں گا۔۔۔ٹھیک ہے؟؟؟اور رہی رابیہ کی بات تو یار وہ اُس کا اپنا معملہ ہے۔۔میں اسے روک نہی سکتا۔۔۔۔" سمیر نے زارا کو سمجھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
"سمیر وہ اچھی لڑکی نہیں ہے۔۔۔"۔
"زارا تم کسی کو اِس طرح جج نہیں کر سکتی۔۔۔یہ غلط ہے۔۔۔۔" سمیر کی آنکھیں زارا کے آفسردہ چہرے کو تک رہی تھیں۔۔۔۔
"میں جج نے کر رہی یہ سچ ہے۔۔۔۔آپکو پتا بھی نہیں کہ اُس نے میرے ساتھ کیا کیا ہے۔۔۔۔"تکان سے کہتے ہوئے زارا نے سمیر کا ہاتے تھاما۔۔
"میری جان!! اگر اس نے تمہارے ساتھ کچھ غلط کیا ہے تو اسے اسکی سزا ضرور ملی ہوگی۔۔۔اور اگر نہیں ملی تو تم معاف کر دو۔۔۔"سمیر کی بات پر زارا نے دبے دبے غصے سے سمیر کی دیکھا۔۔۔۔
"یار ثواب ملے گا۔۔۔۔جنت میں جاؤ گی۔۔۔اور ویسے بھی معاف کرنے والا بندہ اللہ کو بڑا پسند ہے۔۔۔اب مجھے ہی دیکھ لو۔۔"سمیر کی آنکھوں میں شرارت ابھری۔۔۔مگر زارا واقعی سنجیدہ تھی۔۔۔
"میں رابیہ سے ساری بات کلیر کروں گی۔۔۔بس میں نے سوچ لیا ہے۔۔۔" زارا نے گویا سمیر کی بات سنی ہی نہیں تھی۔۔اسکے دماغ میں تو کچھ اور چل رہا تھا۔۔۔۔
"زارا ایسے بات بڑھے گی۔۔۔مت کرو۔۔بس چھوڑ دو سب کچھ ساری ٹینشنیں سارے شکوے سب کچھ۔۔۔۔۔۔تم رابیہ کو معاف کردو۔۔۔پلیز یار بڑوں کی بات مان لیتے ہیں۔۔۔۔۔"سمیر اب اکتاہٹ سے بولا۔۔۔اُسے ساری بات کا علم تھا(رابیہ اور زارا کی) وہ پہلے ہی ثناء سے ساری داستان سن چکا تھا مگر وہ زارا کے سامنے انجان بن رہا تھا کیونکہ وہ بات کو بڑھانا نہیں ختم کرنا چاہتا تھا۔۔۔اپنے بھائی کی خوشی کے لیے اور زارا کے سکون کے لیے۔۔۔۔۔
"اچھا ٹھیک ہے میں کوشش کروں گی۔۔۔مگر میں ہاشم سے ناراض ہی رہوں گی۔۔اس نے سچی میں مجھے اتنا ڈانٹا۔۔۔" سمیر کوئی بات کہے اور زارا نہ مانے یہ ناممکن تھا۔۔۔۔۔
"بڑے شوق سے!!! بلکے ایسا کرتے ہیں میں بھی اُس سے ناراض ہو جاتا ہوں۔۔۔۔ اُس نے میری جانے من کو کیوں ڈانٹا۔۔۔" کہہ کر سمیر ہس دیا اور زارا کی مرجھائی صورت بھی کھل گئ۔۔۔تمام شکوے تمام شکایتیں سب غائب ہوگئے۔۔۔
کمرے میں چند لمحے خاموشی رہی پھر سمیر نے ایک گہری سانس لی اور زارا کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے۔۔۔۔
"زارا ہم نے کتنے عرصے سے اپنی باتیں نہی کیں۔۔۔ جیسے ہم پہلے کرتے تھے۔۔۔" سمیر کی آواز مدھم اور لہجا قدرے نرم تھا۔۔
"آپکو ٹائم ہی کہاں ملتا ہے مجھ سے بات کرنے کا۔۔۔۔ہر وقت تو آفس والی امی(سیکرٹری) کے ساتھ مصروف رہتے ہو۔۔۔"زارا نے منہ بناتے ہوئی کہا۔۔
" اوو ربا مینوں چَک لے۔۔۔۔اِس سے پہلے یہ دنیا طعنے دے دے کے مار دے۔۔۔"سمیر منصوعی سنجیدگی سے بولا اور زارا ہنس پڑی۔۔
"اب ان طعنوں کی عادت ڈال لیں۔۔۔ملتے رہیں گیں۔۔"
"نہ نہ بری بات۔۔۔اپنے ہونے والے مجازی خدا کی ایسے طعنے نہیں مارتے۔۔۔۔۔" یوں ہی کچھ دیر تک دونوں باہری دنیا سے بےخبر ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہے اور رات رفتہ رفتہ اپنے اختتام کو پہنچنے لگی۔۔
00000000000000
اگلی صبح صادیقی صاحب کے گھر میں کافی روشن اور مصروف طلوع ہوئی تھی۔۔۔بارت 11 بجے لے کر جانی تھی اس لیے سب تیاریوں میں مصروف تھے۔۔۔۔
9 بجے کا وقت تھا جب زارا اپنے کمرے کے ڈریسنگ کے سامنے کھڑی بالوں کو سیدھا کر رہی تھی اور ہاشم ساتھ کھڑا معصومیت سے اُسے پکار رہا تھا۔۔۔
"سنو نا زارا۔۔۔"
"نہیں" زارا اسے دیکھے بغیر بولی۔۔۔
'تم ہی مجھ سے روٹھ گۓ تو کس سے بات کروں میں۔۔۔۔" ہاشم نے گانا گنگنایا۔۔۔
"اپنے ساس سے۔۔"زارا نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔
"گستاخ عورت۔۔۔۔" ہاشم زرا بلند آواز میں بولا "کچی بس اب تم سے۔۔۔میں نہی بولتا" اور دوسرے ہی لمحے آواز دھمی کرتی ہو معصومیت سے بولا۔۔۔۔مگر زارا نے کوئی جواب نہ دیا۔۔۔
"زارااااا!" وہ اب اکتاہٹ سے بولا تھا۔۔۔
"ہاں جی ؟؟"
"یار میں رابیہ کو نہیں چھوڑ سکتا میں نے پرومس کر لیا ہے۔۔۔اب تم خود حساب لگا لو ہتھیار ڈالنے ہے تو ٹھیک ہے ورنہ پھر میں نے بھی تمہارے لیے کبھی سمیر کی جاسوسو نہی کرنی۔۔۔" آخری فقرہ کہتے ہوئے ہاشم کی آنکھوں میں مسکراہٹ جھلکی۔۔۔
"مجھے رابیہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔۔تم نے اتنے برے انداز میں مجھ سے بات کی تھی کل۔۔۔اُس پر ناراض ہوں" سٹریٹنر بالوں میں پھرتے ہوئے وہ نرمی سے بولی۔۔
"ہاۓ مطلب سچی؟؟؟ مطلب رابیہ تمہاری دیوارنی بنے تمہیں کوئی مسئلہ نہیں؟؟؟" ہاشم کی اِس اوراکسائٹمنٹ پر زارا نے اُسے تکان سے دیکھا۔۔۔
"اچھا سوری کل کے لیے۔۔۔مجھے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔۔۔"وہ سر جھکائے بولا "پر یار تم ایک عاشق کی محبت کو برا بھلا کہہ رہی تھی۔۔اور غیرت مند عاشق بھلا برداش کرتے ہیں یہ سب؟؟؟" ہاشم کی بات پر زارا نے مسکراہٹ دبائی۔۔وہ ابھی تھوڑی دیر اور ناراض رہنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔
"معافی قبول و منظور ہوئی میری کہ؟؟؟"۔۔
"ہاں ہاں معاف کیا۔۔۔"اور زارا کا یہ کہنا تھا کہ ہاشم کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں اور خوشی خوشی میں تین چار بات شکریہ کہہ ڈالا۔۔
"شکریہ۔۔اللہ تمہیں آباد رکھے۔۔پاک سر زمین شاد باد" اسکے منہ میں جو آیا وہ بولتا گیا۔۔۔
"اللہ تمہیں ہدایت دے۔۔۔کشورِ حسین شاد باد" اور زارا تو پھر زارا تھی۔۔۔
"ویسے زارا چڑیل" "۔مطلب اچھی والی چڑیل۔۔"
" میں نے سوچ لیا ہے۔۔۔۔"
"واٹ"
"سمیر تمہاری محبت میں نمازی بن گیا۔۔۔۔میں نے رابیہ کے عشق میں مولوی بن جانا ہے۔۔۔تم دیکھنا۔۔" ہاشم دوراندیشی والے انداز میں بولا اور زارا نے ایک بلند کہکا لگایا۔۔۔اب ہاشم جیسے نمونے کے ساتھ بندہ کتنی دیر تک سنجیدہ رہ سکتا ہے!!
To be continued!!!
Aslam o alaikum!!! Wa laikum salam....
Kesi lagi apko aj ki episode??? Chotuuu si ha I know...par next wali inshallah wadii sari ho gi....
Baki achy achy comments karain or koi kami peshi reh gai ho to zaror batain ta k main usy theek kar schonn....
Ta ta bye bye!!
Bạn đang đọc truyện trên: AzTruyen.Top