....
قسط ۳
" چلو خیر یہ بھی ہو ہی گیا۔۔۔شکر الحمدللہ " مریم خوشی سے اچھلی تھی ۔۔۔بیڈ سے اٹھی اور بہت exitment میں یونی کے لیے روانہ ہوئی
اس خبر کو سن کے وہ بےحد خوش تھی اب ہر کسی کو ایک بہترین جواب ملنے والا تھا
کم سےکم صفیہ اور اس کے گروپ کو اس بے بُنیاد سوال کا جسکے جواب میں وہ ہمیشہ خاموش رہتی آئی تھی ۔۔۔
اور شاید اس کی خاموشی جاہلوں پے طنز ہوا کرتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تلاشتی نظروں کے ساتھ کیمپس میں گھوم رہی تھی
" اسلامُ علیکم " اُسنے خوشی سے چہکتی آواز اسے سلام کیا ۔۔۔
" وعلیکم السلام "اس نے سلام کا جواب دیا اور اسکی چمکتی آنکھوں اور چہکتی آواز کی وجہ طلب کی
" بتاتی ہو پہلے تم یہ بتاؤ کے عشال کہا ہے "
" وہ لائبرری میں ہے۔۔۔، میں آج لیٹ ہو تھوڑی "
" اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔ چلو ہم وہی چلتے ہے " وہ دونوں campus عبور کرکے کوریڈور سے ہوتی ہوئی لائبریری پہنچی سارہ اندر داخل ہوئی اور ساتھ میں عشال کو باہر کے آئی
" تمہیں صفیہ کا منہ توڑنے کو دل کرتا تھا نہ اب ٹوٹ جائیگا" سلام دعا کے تبادلے کے بعد مریم نے فوراً اسے کہا
" کیا مطلب " پیاری، معصوم سی مریم سے اس طرح کی بات کی توقع نہیں تھی اس لیے عشال ذرا حیران ہوئی تھی
" کل یونیورسٹی میں پروگرام ہے ، کیا تم جانتی ہو "
" ہاں تو اسے صفیہ کا کیا لینا دینا " عشال نے سادگی سے سوال کیا
" صالحہ حیدر کی اسپیچ ہے " مریم کی بات پر عشال کی آنکھیں حیرت سے بڑی ہوئی تھی
" کیا کہا تم نے ، پھر سے کہو " اُسکی حیرانگی کی کوئی حد نہ تھی
" کل کے پروگرام میں صالحہ حیدر کی اسپیچ ہے ، وہ ایز آ گیسٹ یہاں آرہی ہے " مریم نے ایک ایک لفظ کو کھینچتے ہوئی کہا ۔۔۔وہ بہت خوش تھی اسکا اندازہ اُسکی نقاب پوش چھوٹی ہوتی آنکھیں سے لگایا جا سکتا تھا
" اس یونیورسٹی میں ؟ " عشال نے پھر ایک بار کنفرم کرنا چاہا
" ہاں بابا اسی یونیورسٹی میں ، جہاں تم اور میں پڑھتے ہے اور جہاں صفیہ اور سعدیہ جیسے بھی ہے اور سارہ جیسے بھی " مریم پرسکون تھی بہت پرسکون
سارہ نے جھٹ سے عشال کی طرف دیکھا وہ اسی کی طرف دیکھ رہی تھی دونوں نے ایک زور کا قہقہہ لگایا اور مریم کے گلے لگ گئی ۔۔۔۔
عشال دیوانی تھی صا لحہ حیدر کی اور سارہ بھی اب کافی حد تک اُنھیں فالو کرنے۔ لگی تھی
وہ جانتے تھے کے صفیہ جیسی ایسے ہزاروں صالحہ حیدر کو سن چکی ہونگی لیکن یہ بھی جانتے تھے کے صالحہ حیدر کی پر اسرار باتوں نے ایسی کئی صفیہ اور سعدیہ کے دل کو چھوا ہے
اور کیوں نہ اثر ہو انکی باتوں مے جو پیارے آقا ﷺ کے حوالے سے بات کرے ان کی باتے اثر ہی تو رکھتی ہے
صالحہ حیدر ایک عمدہ islamic scholar تھی ہمیشہ سے اُن پر اللّٰہ کی خاص عطا تھی ، اُن کی کہیں ہوئی بات لوگو کے دل میں گھر کر جاتی وہ لڑکیوں میں کافی مشہور تھی
عشال بھی انہیں follow کرتی تھی مریم کی طرح
اور یہ بات مریم کے لیے خوشی کا باعث تھی کے وہ اُن سے رُوبرُو ملنے والی تھی ، رُوبرُو سننے والی تھی
وہ بھی اپنے یونی میں اس جگہ جہاں اسکی سخت ضرورت تھی اس لیے مریم خوش تھی بہت خوش
خیر ان تینوں کو تو انتظار تھا صالحہ حیدر کو رب رو سن نے کا اور ایسے کہیں زیادہ خوشی اس بات کی تھی کے اس یونیورسٹی میں سونے گی
" آہ اُنھیں سن نے کا بھی اپنا ہی ایک سکون ہے " عشال کے لہزے میں جہاں بھر کا پیار تھا
" ہمم " سارہ بھی خوش تھی یہاں کے سارے مسلے، ڈسپوانٹمنت اور بار بار مذاق اڑائے جانے کی ٹینشن سب بھول چکا تھا
" میری کلاس کا ٹائم ہو چکا ہے میں چلتی ہو ، ہم کل صبح ملتے ہے، بس دعا کرو کے صفیہ بھی یہ پروگرام اٹینڈ کرے ، اللّٰہ حافظ "
" اللہ حافظ " سارہ کے جواب پر مریم نے ایک نظر خاموش کھڑی عشال پر ڈالی جسکی آنکھوں میں خوشی کی جگہ اب غصے نے لے لی تھی ، اپنی گردن کو خم دیتی وہ آگے بڑھ گئی
صفیہ کا نام سنتے ہی عشال کا ٹمپریچر ہائی ہوجاتا تھا
" اتنا غصّہ صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہوتا جانی " سارہ نے ہلکے سے اُسکی کندھے پر مارا اور وہ دونوں ہستی ہوئی اپنے کلاسروم کی طرف بڑھ گئی
" ارے یار لیکن میں تو پوچھنا ہی بھول گئی اس پروگرام کا نام آخرین کیوں رکھا ہے ،کچھ الگ ہی نام ہے ، پہلے کبھی نہیں سنا ؟ " سیڑھیاں چڑھتے ہوئے سارہ نے سوال کیا
" ہمم میں نے بھی نہیں سونا کبھی , خیر اب یہ راز بھی کل ہی خولینگا ہم پر "
" اُفف راز ، خیر کل تک کا انتظار کرتے ہیں "
۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
Assalamualaikum 💗
Epi kaisa laga zaroor bataie
Apna feedback dena na bhule
It's very important to me 😊
Bạn đang đọc truyện trên: AzTruyen.Top