..

قسط ۲

" واہ ! ذرا دیکھو تو کون ہے؟ " ایک جانی پہچانی سی آواز پر سارہ کے قدم روکے تھے وہ جو تیزی سے سیڑھیاں اتر رہی تھی ایک دم سے روک گئی تھی۔

" سعدیہ  تم! " اس نے مسکرا کر پیچھے دیکھا ، سامنے کھڑی لڑکی اُسکی اسکول فرینڈ تھی۔

" کیسی ہو ؟" سارہ اس سے گلے ملنے کے لیے آگے بڑی تو وہ اترا کر پیچھے کی طرف ہوئی ۔

" کیا بنا لیا ہے تم نے خود کو؟ "

" بہن جی! " پیچھے سے آتی صفیہ نے کہا تھا اور اس کے  ساتھ موجود ساری لڑکیاں ہنسنے لگی انکی ہنسی کی گونج سے آس پاس موجود سارے لوگوں کی توجہ انکی طرف ہوئی سارہ کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا کہے ۔
سامنے کھڑی وہ لڑکی اُسکی اچھی دوست ہوا کرتی تھی عشال کی طرح ۔

" ہاں یار کہاں تمہاری خوبصورت ریشمی زلفے مشہور تھی سارے اسکول میں اور اب یونی آکر تم نے یہ  سر پر کپڑا لپیٹنا شروع کردیا ، پاگل لڑکی پہلے کی طرح ہوتی تو آج یونی کے سارے لڑکے تمہارے پیچھے پاگل ہوتے۔ " سعدیہ نے اُس کے حجاب پر افسوس  جتا رہی تھی۔ اور اسے بتا رہی تھی کہ اس نے کتنی بڑی غلطی کی ہے ورنہ آج وہ لڑکوں میں مشہور ہوتی۔

سارہ خاموش تھی وہ صفیہ کے سامنے خاموش ہی رہنا چاہتی تھی کیوں کے وہ اس بات کو اور نیا رخ دے دیتی اسے بالکل نہیں پسند تھا کے کوئی اُس کے حجاب کا مذاق بنائیں وہ اُداس ہو جاتی تھی۔

" ہمیں بھی بہت افسوس ہوا سعدیہ تمہیں اس حالت میں دیکھ کر " عشال دوڑتی ہوئی وہاں آئی تھی صفیہ کو دیکھ کر اس نے اندازہ لگا لیا تھا کے وہاں کیا ڈراما ہو رہا ہوگا۔

" کیوں کیا ہوا میں کہیں سے معذور لگ رہی ہو تمہیں " سعدیہ نے ہنستے ہوئے کہا ۔

" لگ تو رہی ہو ، ذہنی معذور " عشال تو پھر عشال تھی۔
دور کھڑی مریم کی نقاب پوش آنکھیں پھر چھوٹی ہوتی نظر آئی تھی وہ جو پریشانی سے سب کچھ دیکھ رہی تھی اب عشال کے وہاں آنے پر خوش تھی وہ جانتی تھی اب عشال نے سب سمبھال لینا ہے۔
اُسکی ایک عادت تھی وہ کبھی کسی کو کوئی درس نہیں دیتی ہمیشہ ایسے منظر پیش آنے پر اللّٰہ سے دعا کرتی کہ اللّٰہ تو ہی بہترین جواب دینے  والا ہے لیکن عشال تھوڑی  مختلف تھی اسے غصہ کنٹرول   نہیں ہوتا تھا ۔

" تم  تو بلکل نہیں بدلی عشال ویسی کی ویسی ہی ہو ، باپردہ خاتون ہاہاہا " سعدیہ کی اس بات سے صفیہ کافی لطف اندوز ہوئی تھی ایک بار پھر وہ لوگ شیطانی ہنسی سے کھل کھلا رہے تھے جیسے ساری دنیا میں اُنھیں اور کوئی کام ہی نہ ہو۔

" زمانہ بگڑ کے سدھرتا ہے ، اور سعدیہ بے چاری سدھر کے بگڑی ہے " عشال نے سارہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
سارہ کے لبوں پر ایک دل فریب مسکراہٹ لہرائی تھی اس نے عشال کا ہاتھ پکڑا اور اسے وہاں سے لے جانے لگی ۔

" خدارا اگر مجھے  ایک خون معاف ہوا نا تو میں نے اس صفیہ کو قتل کر دینا ہے "  عشال کا غصہ عروج پر تھا۔

" استغفراللہ ، لاحول پڑھو عشال  " سارہ نے خفگی سے اُسے دیکھا۔

"پہلے  تم مجھے یہ بتاؤ تم گونگی کیوں ہوگی تھی۔ " عشال کا غصّہ اور بڑھ گیا تھا

" یار میں تو سعدیہ کو دیکھ کر شوکڈ تھی ، باقاعدہ چادر لینے والی لڑکی کیسے اس طرح بے پردہ گھوم رہی ہے، مجھے تو یقین نہیں آ رہا۔ دین کے اتنے قریب ہوکر لوگ کیسے غافل ہو سکتے ہیں۔ " سارہ نے افسردہ لہجے میں کہا تھا عشال بھی اس بات پر غور کر رہی تھی۔

" افسوس ہے اُس کی غفلت پر ، خیر یہ تو اللہ کے طرف کی بات ہے جب چاہے, جسے چاہے ہدایت سے نوازے ، تم خوش ہوجاؤ تم چنی  گئی ہو۔ " عشال نے چہکتی لہجے میں کہا تھا۔

" لوگ کیوں ہمارا ماضی کھریدتے ہے وہ کیوں ہمیں ہمارے حال پر نہیں چھوڑ دیتے۔ " سارہ کی آواز بھاری معلوم ہوتی تھی۔

" اسے ہی تو دنیا کہتے ہے جانم ، سعدیہ سے کیا گلا کرنا وہ تو گمراہ ہوگئی ہے۔ " عشال نے ایک ٹھنڈا سانس ہوا کے سپرد کرتے ہوئے کہا۔
" تم اُس کی بات کو ہوا میں اُڑا دو ، اور آؤ  میرے گلے لگ جاؤ " اس نے سارہ کو اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا سارہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔

" تم بھی نا عشال! کمال ہو بہت ہاہاہا " پھر ایک بار جاہلوں کی کم  ظرفی اور تنگ نظری کو ایک طرف کر کے دونوں سہیلیاں خوشی خوشی اپنی کلاس کی طرف روانہ ہوئی۔

۔۔۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔۔

Bạn đang đọc truyện trên: AzTruyen.Top