part 13 (dholki function)
سمیر اور اسکے گھر والوں کو آۓ تین دن ہو گۓ تھے۔۔۔۔ان تین دنوں وہ سب غالباً مصروف رہے ۔سمیر اپنے آفس کے کاموں میں لگا رہا۔۔۔۔ہارس اور اسکے دوسرے بھائی شادی کی بھاگ دوڑ میں اور گھر کی خواتین مہمان نوازی اور شادی کے لیے باقی رہ جانے والی خریداری میں۔۔۔۔۔زارا بھی اب گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانے لگی تھی کیونکہ اُسے ڈر تھا کہ کہیں اسکی ماما مہمانوں کے سامنے اسکی عزت(بیستی) نہ کر دیں۔۔۔
ہاشم بھی سارا دن مصروف رہتا۔۔۔۔۔کسی کام میں نہیں بلکہ زارا کو تنگ کرنے میں۔۔۔وہ ایسا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتا جس میں وہ زارا کو تنگ کر کے روحانی خوشی حاصل کرے۔۔۔۔
اگر زارا موبائل استمال کر رہی ہو تو فوراً جا کر سارہ بیگم کو شکایت کر دیتا۔۔۔"جی انٹی آپ زارا کو بلا رہی تھیں۔۔۔۔۔اوہ ہاں وہ تو کمرے میں بیٹھی ہے۔۔۔شاید مصروف ہے۔۔۔موبائل میں۔۔۔" اور سارہ بیگم کسی شیرنی کی طرح جاتی اور زارا سمیت موبائل کو کھری کھری سنا آتیں۔۔۔۔"آگ لگے اس کم بخت کو۔۔۔۔ٹوٹ مر جاۓ۔۔۔جان چھوٹے اس عذاب سے۔۔۔۔"۔۔۔اور زارا بس یہی کہ کر چپ ہو جاتی۔۔"مجھے جو مرضی کہ لیں۔۔اس معصوم کا کیا قصور ہے"۔۔۔۔۔۔
اور جب زارا بدقسمتی سے بڑوں میں بیٹھی ہوتی تو ہاشم کسی نہ کسی طرح اسے تنگ کرتا اور وہ غصے میں اسے "چوچا کہہ دیتی" اور ہاشم معصوم سا منہ بنا کر سارہ بیگم سے کہتا۔۔"انٹی جی۔۔۔دیکھیں میں اس سے تین مہینے بڑا ہوں اور یہ مجھ سے کیسے بات کرتی ہے۔۔۔بھلا میں اسکو کچھ کہتا ہوں۔۔"اور پھر سارہ بیگم زارا کو تمیز کے عنوان پر لمبا چوڑا لیکچر دیتیں۔۔۔
مگر آج زارا بہت خوش تھی۔۔۔۔آج اس نے ہاشم سے سارے اپنے بدلے نکال لیے تھے۔۔۔صبح جب صدیقی صاحب نے زارا کو کہا۔۔۔۔
"بیٹا جاؤ اور ہاشم کو کہو شام کے لیے ڈھولکی اور کچھ سامان لے آۓ۔۔۔۔"تو زارا ہاشم کے کمرے میں گئ۔۔۔۔مگر وہ ایسے سو رہا تھا جیسے سو سال بعد موقع ملا ہو سونے کا۔۔بیچارہ!!۔۔۔۔زارا نے اُسے اٹھانے کا تکلف کیے بغیر ایک بڑا جگ پانی کا لیا اور جھٹ سے اسکے اوپر انڈیل دیا۔۔۔۔
"موٹی۔۔۔رک جا تیری تو ایسی کی تیسی۔۔۔۔"ہاشم ہڑبڑاہٹ سے چلاتا ہوا زارا کے پیچھے بھاگا مگر وہ ہاتھ نہ آئئ۔۔۔۔۔۔
**********
شام 6 بجے کا وقت تھا جب زارا اپنے کمرے کے شیشے کے سامنے کھڑے تیار ہو رہی تھی۔۔۔۔باہر سے ڈھولکی اور گانے بجانے کی آوازیں آرہی تھیں۔۔۔۔فنکشن میں گھروالوں کے علاوہ صرف خاندان کے لوگ تھے اِس لیے سارہ انتظام لان میں کیا گیا تھا۔۔۔
زارا نے گہرے پیلے رنگ کا لمبا سا فراک اور اس کے اوپر گہرے گلابی رنگ کا ڈوپٹہ اوڑھ رکھا تھا۔۔۔۔چہرہ ہمیشہ کی طرح کم میکپ کے پیچھے چھپا پُر رونق سا تھا۔۔۔۔۔۔اپنے گھنگریالے بالوں کو اُس نے آج سیدھا کیا ہوا تھا جو کہ کھلے تھے۔۔۔۔۔۔

ڈوپٹے کو کندھے پر رکھتے ہوۓ اسے اپنا عظیم کارنامہ یاد آیا جو اُس بے ہاشم کے ساتھ کیا۔۔۔اور فاتحانہ مسکراہٹ اُسکے چہرے پر بکھری جو فوراً غائب ہو گئ جب اُس نے ہاشم کو کمرے میں آتے دیکھا۔۔۔۔۔ہاشم بے سیاہ رنگ کا کُرتا پہنا ہوا تھا جس میں وہ اتنا شاندار لگ رہا تھا کہ ہر لڑکی کا اُس پر دل آجائے
"خیر تو ہے لڑکی۔۔۔بڑا مسکرایا جا رہا ہے۔۔۔" شیشے میں زارا کا عکس دیکھتے ہوۓ ہاشم بولا۔۔۔۔
"بس ایسے ہی۔۔۔۔اپنا صبح والا کارنامہ یاد آگیا تھا۔۔۔" زارا نے تنز کرتے ہوئے کہا اور اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی۔۔۔۔
"اوو ماشااللہ بڑا کوئی قلعہ فتح کیا ہے مس گھنگریالے بالوں والی چڑیل نے۔۔۔۔" ہاشم کے چہرہ ہمیشہ کے طرح پر کشش سا تھا۔۔۔۔
"تم نہ تمیز سے بات کیا کرو چوچے۔۔۔میں تمہاری ہونے والی بھابھی ہوں۔۔۔"زارا کے چہرے پر لالی چھا گئ۔۔۔۔
"ہونے والی بھابھی؟؟۔۔۔۔ اچھا؟؟؟ مگر تمہارے حاجی صاحب تو شاید کسی اور کے چکروں میں ہیں۔۔۔"اپنی بےتاب مسکراہٹ کو اندر چھپاتے ہوئے ہاشم بولا۔۔۔۔وہ زارا اور سمیر میں لڑائی کروانا نہیں چاہتا تھا وہ تو بس شرارت کر رہا تھا ۔۔۔۔
"کیا مطلب؟؟" زارا کی چہرے کی رونق پھکی پڑی۔۔۔
"جا کے دیکھ لو بے شک۔۔۔۔اتنی دیر سے اپنی سیکڑی کے ساتھ موبائل پر لگا ہوا ہے۔۔۔۔ایک بار بھی تمہیں دیکھنے نہیں آیا۔۔۔۔۔" دھیمی آواز میں بولتا ہوا وہ شیشے میں اپنے کُرتے کی سلوٹیں ٹھیک کرنے لگا۔۔۔۔۔
"جا چوچے۔۔۔۔وہ ایسے نئ ہیں۔۔۔۔وہ میرے علاوہ کسی کو نہیں چاہتے۔۔۔۔" زارا نے اپنے آپ کو تسلی دیتے ہوئے کہا مگر اندر سے اسکا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔
"مرد بہک جاتا ہے زارا۔۔۔اور اوپر سے تم سمیر کے معصوم سے بھائی کے ساتھ اتنا لڑتی ہو۔۔۔سزا کسی نہ کسی صورت میں تو ملنی ہی ہے۔" ہاشم نے کہکا لگایا تو زارا نے اپنے کوہنی سے اسے زور سے مارا۔۔۔
"تم مذاق کر رہے ہو میرے ساتھ۔۔۔جھوٹے۔۔۔۔"زارا اکتا کر بولی۔۔۔۔
"اچھا ٹھیک ہے نہ مانو۔۔۔۔بس اتنا بتاؤ کہ وہ تمہیں دیکھنے کیوں نہیں آیا۔۔۔کام پیار سے زیادہ اہم ہے؟؟؟ اور تین دن ہو گۓ ہیں میں نے تو اُسکی آنکھیں موبائل کے علاوہ کہیں نہیں دیکھیں۔۔۔۔"ہاشم کی بات پر زارا سوچ میں پڑ گئ۔۔۔'بات تو سہی ہے۔۔۔اتنے دنوں سے مجھے ٹائم بھی نہیں دیا۔۔'۔۔۔
اپنے آستین اوپر چڑھاتے ہوئے اپنے کمرے سے باہر نکل آئی "آج تو خیر نئ سمیر کی۔۔۔۔ویسے تو اتنی باتیں کرتے تھے کہ ملیں گیں تو یہ کریں گیں وہ کریں گیں ۔۔۔۔اب کہاں گئیں ساری باتیں۔۔۔میں تو پاگل ہوں نہ جو انتظار کرتی رہتی ہوں۔۔۔" وہ غصے میں بڑبڑاتی ہوئے سمیر کے کمرے ک طرف بڑھی۔۔۔اور ہاشم وہیں کھڑا ہستا رہا۔۔"ہاۓ یہ ابھی تک ویسی ہی ہے۔۔۔پاگل سی"۔۔۔۔
ڈھیرو شکوے دل میں لیے زارا نے کمرے کا دروازہ کھولا تو سامنے سمیر صوفے پر بیٹھا لپ ٹاپ پر کام لر رہا تھا۔۔۔وہ بھی سیاہ کرتے میں ملبوس کسی شہزادے سے ک نہیں لگ رہا تھا۔۔۔اوپر سے گہرے آنکھوں کے ساتھ سنجیدہ چہرہ اسکی شخصیت کو چار چاند لگا رہا تھا۔۔۔۔سمیر نے دروازے پر کھڑی زارا کو دیکھا تو زارا کے اثبات ڈھیلے پڑ گۓ۔۔۔۔سمیر کو دیکھتے ہی وہ ساری گلے شکوے بھول گئ۔۔۔۔
"ماشااللہ!!" زارا کا اوپر سے لے نیچے تک جائزہ لیتے ہوئے سمیر کے منہ سے نکلا۔۔۔۔زارا قدم قدم چلتی سمیر کے قریب آئی اور صوفے پر بیٹھ گئ۔۔۔۔
"کیا ہوا؟؟؟ اتنا اچھا منہ کیوں بنایا ہے۔۔۔۔"سمیر نے زارا کے بدلتے تاثرات دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
"کچھ نہیں بس ویسے ہی۔۔۔۔" زارا کے الفاظ اسکی آنکھوں کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔۔۔۔۔
"آپ ہر وقت بیزی رہتے ہیں۔۔۔۔اور آپ مجھے دیکھنے بھی نہیں آۓ" زارا نے ناراضگی دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
"اچھا تو یہ باتیں آکہاں سے رہی ہیں؟؟؟خیر میری جان تو ایسا کبھی نہیں سوچتی تھی۔۔۔"سمیر کا منہ اب زارا کی طرف تھا۔۔۔۔
"میں خود ہی کہہ رہی ہوں۔۔۔اور۔۔۔ اپکی وہ سیکڑی۔۔۔۔۔" زارا انگلیاں مڑورتی کہے جا رہی تھی۔۔۔
"اِس ہاشم کی تو۔۔۔۔" سیکڑی والی بات پر سمیر کو علم ہو گیا کہ اس سب کے پیچھے کونسا شیطانی دماغ ہے۔۔۔۔
"ہاۓ ہاے اسکا کیا قصور ہے۔۔۔مجھے نظر نہیں آتا آپ ہر وقت موبائل میں لگے رہتے ہیں۔۔۔۔"
"ہاۓ اوووو ربا مجھے صبر دے خدایا مجھے اس وقت بہت ضرورت ہے۔۔۔۔" سمیر دونوں ہاتھ ماتھے پر رکھتے ہوۓ بولنے لگا جبکہ زارا کچھ کہے بغیر اسے دیکھی جا رہی تھی۔
"دیکھو جان!!! وہ نہ میرے بچوں کی بھوا(پھپھو ہے!!)۔۔۔۔اور یہ جو ہے نہ تمہارا دیور یہ تمہیں تنگ کرتا ہے اور تم اسکی باتوں میں آجاتی ہو۔۔۔۔اور بھلا مجھے کیا ضرورت ہے تمہارے ہوتے ہوۓ کسی اور کی طرف دیکھنے کی!!!میری اتنی ہمت۔۔۔۔!!" سمیر لفظ با لفظ زارا کو سمجھا رہا تھا اور زارا اب سمجھ بھی رہی تھی کہ ہاشم واقعی مذاق کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر مذید باتیں کرنے کے بعد زارا باہر لان میں آگی جہاں پوری تقریب کا انتظام کیا گیا تھا۔۔۔جگہ جگہ دیے رکھے ہوۓ تھے۔۔۔۔پھولوں اور لائٹوں سے پورا گھر سجا ہوا تھا۔۔۔۔۔چار دن پہلے کی نسبت آج گھر زیادہ روشن تھا۔۔۔۔مہمان تقریباً آ چکے تھے بس گھر کے بڑوں کا انتظار تھا جو زارا کی پھپھو کو منانے گۓ تھے۔۔۔۔یہ روایت تو برسوں سے چلی آرہی ہے۔۔۔کہ لوگ شادیوں پہ خوشیاں مناتے ہیں اور ہم پاکستانی اپنی پھپھیاں۔۔۔۔۔۔۔
زارا اپنے لمبے فراک کو سمبھالتی ثناء کی طرف جا رہی تھی جب ہاشم اُسکے سامنے آکر رکا۔۔۔۔
"کیسی ہو؟؟؟ سمیر کیسا ہے۔۔۔امید کرتا ہوں زندہ ہو گا۔۔۔"اُسکی آنکھوں میں شرارت صاف دیکھی جا سکتی تھی۔۔۔۔
"چوچے کے بچے۔۔دال دال کچے۔۔۔میرے سے بات نہ کری آج کے بعد۔۔۔۔۔میں نئ بولتی تجھ سے۔۔۔۔" زارا ہاشم کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
"ہاۓ میں مر جاواں۔۔۔۔"ہاشم کی پنجابی پر زارا کی ہنسی نکل گئ۔۔۔۔
"میں کی کریا؟؟" ہاشم الحمداللہ کافی خراب پنجابی بولتا تھا۔۔۔۔
"اور چوچے تو نہ بولا کر پنجابی تینو (تمہیں) خدا دا واسطہ ای۔۔۔۔۔" زارا کی ناراضگی اب غائب ہو چکی تھی۔۔۔۔۔
"ہاں تو موٹی تجھے کونسا ڈچ( dutch۔۔۔نیدرلینڈز میں بولے جانے والی زبان) آتی تھی۔۔۔میں نے کبھی کچھ کہا تھا تمہیں؟؟؟" ہاشم منہ بناتا ہوا کہنے لگا۔۔۔۔
"اوےےےےے موٹی تیرت سس (ساس)۔۔۔۔۔میں نے نہ تیرے ۔۔۔۔۔۔" رابیہ کو قریب آتے دیکھا تو زارا کے الفاظ تھم گۓ۔۔۔۔
"وااوو زارا۔۔۔۔بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔"رابیہ کے تعریف کرنے پر زارا نے اکتاہٹ کے چہرہ دوسری طرف کر لیا جس پر رابیہ شرمندہ سی ہو گئی۔اور ہاشم کے تاثرات بھی بدل گۓ۔۔۔اُسے کیا معلوم دونوں کے درمیان کیا چل رہا ہے۔۔۔۔۔۔
"چلو یار ہم کب سے انتظار کر رہے ہیں۔۔"ثناء زارا کا بازو پکڑتے ہوئے اُسے لے گئ جبکہ ہاشم اور رابیہ وہیں کھڑے رہے
"کچھ ہے کیا ہوا ہے تم دونوں کے بیچ؟؟؟" ہاشم نے پاس کھڑی رابیہ سے پوچھا۔۔۔۔۔
"زارا تو ہے ہی ایسی۔۔۔۔اپنے علاوہ اُسے کچھ نظر ہی نہیں آتا۔۔۔۔تمہیں کیا پتا اسکا یہ کیا چیز ہے۔۔۔"رابیہ نے منہ بناتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
"خیر رابی اتنا تو میں اُسے جانتا ہوں کہ وہ بلا وجہ کسی سے ناراض نہیں ہوتی۔۔۔۔اور اس طرح تو کسی بات نہیں کرتی۔۔۔۔کچھ تو ہے۔۔۔۔خیر مجھے کیا!!" یہ کہتے ہوئے وہ سمیر کو بلانے اسکے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
رات کے آٹھ بج چکے تھے اور تقریب کا آغاز بھی ہو چکا تھا۔۔۔تمام لڑکیاں نیچے بیٹھی تھیں مرد حضرات کرسیوں پر براجمان تھے۔۔۔۔۔سب سے پہلے ڈھولکی بجائی گئ جس پر سب عورتوں نے مل کر روایتی اور باقی دوسرے گانے زورو شورو سے گائے۔۔۔۔طاہرہ بیگم کی آواز سن کر سب حیران رہ گئے اور زارا کا سر فخر سے اونچا ہو گیا کہ اسکی ہونے والی ساس کی آواز کتنی اچھی ہے۔زارا گاتے گاتے شرما کر رک جاتی اُسکی نظر بیزار بیٹھے سمیر پر پڑتی جو بور سا ہو کر زارا کی ہی دیکھی جا رہا تھا۔۔۔۔۔جب گانا بجانا ختم ہوا تو زارا،ثناء رابیہ ہاشم اور اسامہ نے اپنا تیار کردہ ڈانس کیا۔۔۔۔محفل کی رونق تب بڑھی جب سارہ بیگم اور صدیقی صاحب نے ہارس کی فرمائش پر ایک پرانے سے گانے پر ڈانس کرنے کی کوشش کی۔۔۔ایسے ہی تین چار گھنٹے تک شگل میلا چلتا رہا۔۔۔اس کے بعد سب ایک طرف آگۓ جہاں کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔۔۔۔ایک بڑی سی میز پر ڈھیرو پکوان رکھے گۓ تھے۔۔۔۔۔
کھانے سے فارغ ہو کر تما بڑے لاؤنچ میں چلے گۓ مگر اقبال کے نوجوان شہین ابھی تھکنے والے کہاں تھے۔۔۔۔جویریہ اور اسامہ جو پہلے سارہ بیگم کے سامنے شرما رہے تھے وہ اب بے فکر ہو کر اپنی پرفارمنس دکھا رہے تھے۔۔۔۔ماحول کافی پرجوش سا تھا۔۔۔۔
"زارا اووو ڈانس کریں۔۔۔۔"علی نے دور سے زارا کو آواز دی۔۔۔جو ابھی تک ہاتھ میں جوس کا گلاس لیے کھڑی تھی۔۔۔گلاس ایک طرف رکھ کر وہ جانے لگی تو دل سے آواز آئی۔۔۔"صرف ایک وڈیو دیکھنے کے بعد سمیر نے اتنا ڈانٹا تھا۔۔۔اور اب تو وہ یہیں ہے۔۔۔نہ جا زارا ورنہ سمیر قتل کر دینا ہے تجھے۔۔۔۔۔"
سر کو جھٹکتے ہوۓ وہ علی کی بجائے سمیر کی طرف بڑھی جو دیوار کے ساتھ لگا موبائل میں مصروف تھا۔۔۔۔
"آئیں سمیر اکھٹے ڈانس کرتے ہیں۔۔۔"۔۔۔
"نہی مجھے نہی آتا۔۔۔۔" سمیر کی آنکھیں ابھی بھی موبائل پر مرکوز تھیں۔۔۔۔زارا کو ویسے بھی علم تھا کے سمیر نہیں مانے گا اور وہ سمیر کو منانے آئی بھی نہیں تھی۔۔۔وہ تو صرف اجازت لینے آئی تھی۔۔۔
"اچھا ٹھیک ہے پھر میں اکیلی ہی کر لیتی ہوں۔۔۔"اشارو ہی اشارہ میں اجازت لے کر وہ جانے لگی تو سمیر نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔۔جسے زارا نے فوراً چھڑوا لیا کہ کوئی دیکھ نہ لے۔۔۔
"تم نہیں کرو گی زارا۔۔۔مجھے نہیں پسند یہ سب ۔۔۔۔پہلے میں نے تمہیں نہیں روکا پر اب میں نہیں کرنے دوں گا۔۔۔۔۔تم یہ سب کرتی اچھا نہی۔۔۔۔"سمیر ابھی زارا کو سمجھا ہی رہا تھا کہ۔۔۔۔
"اووہ ہو زارا کیا یہاں کھڑی ٹائم ویسٹ کر رہی ہو۔۔۔۔چلی ہم ڈانس کریں۔۔۔"علی زارا کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے لے گیا اور شدید غصے سے سمیر کے چہرے کے نقش بگڑ گۓ۔۔۔۔علی کا زارا کو ہاتھ لگا سمیر کے لیے ناقابل برداشت تھا۔۔۔زارا کا ہاتھ ابھی بھی علی کے ہاتھ میں تھا۔۔۔سمیر کے لب بھنچ گۓ سارا خون سمٹ کر چہرے پر آتا گیا۔۔۔۔سمیر نے اپنی شعلہ بار نگاہیں زارا پر ڈالیں تو زارا کے تاثرات پریشانی میں بدل گۓ وہ اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی مگر علی کی گرفت مظبوط تھی۔۔۔سمیر کا غصہ جب حد سے باہر ہو گیا تو۔۔۔۔۔۔۔
Too be continued!!!!!
Heyyy viewers hope you like this chapter.....
Qs:-
Apko kiya lagta ha sameer kiya kary ga??? Kiya wo purry ghar k samny tamasha khara kary ga ya phir chup ho jay ga?????
Bạn đang đọc truyện trên: AzTruyen.Top